’’چاروں بھائیوں کوقربانی دینا ہوگی‘‘ چیف جسٹس کا کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق ایسا اعلان کہ آ پ بھی کہیں گے۔۔۔ویلڈن جسٹس ثاقب نثار

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) چیف جسٹس ثاقب نثار نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس میں ریمارکس دیے کہ یہ ڈیم ہر صورت بننا ہے کیونکہ ڈیمزپاکستان کی بقا کیلئے نہایت ضروری ہیں، اگر پاکستان ڈیم نہیں بنائے گا تو پانچ سال بعد پانی کی صورتحال کیا ہوگی، کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح خطر ناک حد تک گر چکی ہے، ڈیمز بننے سے چاروں صوبوں کو فائدہ ہوگا۔ چاروں بھائیوں کو ڈیمزکی تعمیر کے لیے قربانی دینا ہوگی۔

سوچ رہا ہوں عدالتی کام روک کر پانی کے مسئلے پر سیمینار کروائیں۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستا ن کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار نے عدالت کے رو برو موقف اختیار کیا کہ تمام صوبوں نے کالاباغ ڈیم پراتفاق کیاتھا،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کامسئلہ اتناسادہ نہیں ہے،سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک اوراعتزازاحسن کومعاونت کا کہاہے۔سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک نے عدالت کوبریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ کچھ لوگ کہتے ہیں ڈیم بناناچیف جسٹس کاکام نہیں،جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ چیف جسٹس کے علاوہ کوئی اورانصاف نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں 46 ہزار ڈیم تعمیر ہو چکے ہیں،چائنا میں 22 ہزار ڈیم بنائے گئے ہیں،چین ایک ڈیم سے 30 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔شمس الملک نے کہا کہ بھارت 4500 ڈیم تعمیر کر چکا ہے ۔سابق چیئرمین واپڈا نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کے ہرمخالف سے ملاقات ہوئی،کالاباغ ڈیم کے مخالف میری بات تسلیم کرتے ہیں،کالاباغ ڈیم کے مخالفین کہتے ہیں انہیں پنجاب پراعتمادنہیں،شمس الملک نے کہا کہ تربیلاڈیم کاپانی فارمولے کے تحت صوبوں میں تقسیم ہوتاہے،ارسامیں سندھ کی نمائندگی دوسرے صوبوں سے زیادہ ہے۔

شمس الملک نے کہا کہ کے پی حکومت اوراے این پی کوبھی کالاباغ ڈیم پربریفنگ دی،اے این پی کے سینئر رہنما نے مجھے کہاولی خان کومنا لیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیا پاکستان کی بقاپانی کے بغیرممکن ہے، ڈیم نہیں بنائیگا تو 5 سال بعدصورتحال کیاہو گی؟۔سابق چیئرمین واپڈا نے کہا کہ قیادت تیار ہو تو بطورسپاہی کام کروں گا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ڈیمزپاکستان کی بقا کیلئے نہایت ضروری ہیں،چاروں بھائیوں میں اتفاق ہونا چاہئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ چاروں بھائیوں کوڈیمزکی تعمیرکیلئے قربانی دیناہوگی،شمس الملک ہم نے پانی کے مسئلے کو حل کرنا ہے،کالاباغ ڈیم نہ بناتوخیبرپختونخوا زمین کوپانی نہیں مل سکے گا،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہمیں ہنگامی اورجنگی بنیادوں پرکام کرنا ہوگا،کالاباغ ڈیم نہیں ،دیگرڈیمز کی بھی بات کر رہے ہیں،کونسا ڈیم بننا ہے یہ آپ جیسے ماہرین بتا سکتے ہیں، عدالت کی رہنمائی کریں کہ آگے کیسے بڑھا ہے،پورے وثوق سے کہتا ہوں یہ ڈیم ہر صورت بننا چاہئے۔

سپریم کورٹ ڈیمز کے معاملے پر سب سے آگے ہو گی۔چیئرمین واپڈا نے کہا کہ دریاوں میں 86فیصد پانی سیلاب کی صورت میں آتاہے، کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح خطر ناک حد تک گرچکی ہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ حیدرآبادکا پانی پینے کیلئے زہر سے کم نہیں ،سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے پانی سے آرسینک نکلا،میڈیا کو پانی کے معاملے پر بھی پروگرام کرنے چاہئیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کم از کم اس مسئلے پر گفت و شنید شروع کرنی چاہئے۔

ایک کمیٹی یا ٹیم تشکیل دینی پڑے گی،چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہمیں ہنگامی اور جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا، لوگوں کو اکٹھا کریں تاکہ لوگوں کی تجاویز آئیں،چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک مسئلے کا حل نہیں نکلتا میں نے جانے نہیں دینا،سب کو مل بیٹھ کر ایشو کے حل کیلئے سوچنا ہوگا،چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیمزکی تعمیرکیلئے ہم سب فنڈزدیں گے،ڈیمز کی تعمیرکیلئے وکلابھی حصہ ڈالیں گے،انہوں نے کہا کہ آئندہ ہفتے کیس کی سماعت روزانہ کی بنیادپرکریں گے،عدالت نے کالاباغ ڈیم کیس کی سماعت ملتوی کردی گئی۔
یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.