پی ٹی وی کو کس کی طرح ہونا چاہیے؟پی ٹی وی کو آزاد کرنے لگا ہوں،سرکاری چینلز کو آزاد کرنے کے لیے چیف جسٹس نے کیا حکم دیا؟

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ کے حکم پر پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی ( پیمرا) آرڈیننس میں تبدیلی کے بعد عدالت نے میڈیا کمیشن کیس نمٹا دیا۔نجی ٹی وی کے مطابق جمعرات کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں میڈیا کمیشن سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ۔اس موقع پر سیکریٹری اطلاعات اور صحافتی تنظیموں کے نمائندے پیش ہوئے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس کو بتایا گیا کہ نگراں حکومت نے عدالتی حکم پر پیمرا آرڈیننس کے سیکشن 5 اور 6 میں ترمیم کردی ہے اور صدر مملکت نے اس حوالے سے آرڈیننس

بھی جاری کردیا ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ پیمرا آرڈیننس میں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کسی ٹی وی چینل کو براہ راست بند نہیں کرسکے گی اور یہ اختیار پیمرا کے پاس ہوگا، اس کے علاوہ آرڈیننس کے مطابق پیمرا ارکان کی تعداد 11 سے کم کرکے 8 کردی گئی ہے۔سماعت کے دوران سیکریٹری اطلاعات نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے چیئرمین پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی ( پیمرا) کی تقرری روک رکھی ہے جس کی وجہ سے چیئرمین پیمرا کی تقرری نہیں ہوسکی۔سماعت کے دوران پاکستان ٹیلی ویژن کے معاملے پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی وی کو برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن ( بی بی سی ) اور کیبل نیوز نیٹ ورک ( سی این این ) کی طرح ہونا چاہئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں پی ٹی وی کو آزاد کرنے لگا ہوں، سرکاری چینلز کو آزاد کرانے کیلئے درخواست لے کر آئیں۔بعد ازاں عدالت نے درخواست گزار حامد میر اور سینئر وکیل کی استدعاء پر میڈیا کمیشن کیس نمٹا دیا۔سماعت کے دوران مختلف ٹی وی چینلز کے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر لئے گئے ازخود نوٹس پر چیف جسٹس نے کہا کہ تمام ادراے عید سے قبل ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کریں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جن میڈیا ورکرز کو تنخواہیں نہیں ملیں وہ لاہور آجائیں، کیس کی سماعت اتوار کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہوگی۔

یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.