بھارتی شہری ٹیکنالوجی کی دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ پانے والا سی ای او بن گیا،جانتے ہیں نکیش اروڑہ کی ماہانہ تنخواہ کتنی ہے؟

ئی دہلی (این این آئی)بھارت سے تعلق رکھنے والے نکیش اروڑہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ پانے والے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) بن گئے ۔اب وہ پالو آلٹو نیٹ ورک کے نئے سی ای او بنے ہیں اور ان کی تنخواہ سالانہ 12.8 کروڑ ڈالر تقریباً 857 کروڑ انڈین روپے ہوگی۔پالو آلٹو سائبر سکیورٹی کمپنی ہے۔ ٹیکنالوجی سیکٹر میں نکیش اروڑہ کا طویل کیریئر رہا ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق نکیش کی تنخواہ 6.7 کروڑ روپے ہوگی اور اتنا ہی انھیں بونس ملے گا۔ اس کے ساتھ ہی انھیں 268 کروڑ روپے کے شیئر ملیں

گے جنھیں وہ سات سال تک فروخت نہیں کر پائیں گے۔اگر نکیش، پالو آلٹو کے شیئر کی قیمت سات سالوں کے اندر 300 فیصد بڑھانے میں کامیاب رہیں گے تو انھیں 442 کروڑ روپے اور ملیں گے۔اس کے ساتھ ہی نکیش اپنے پیسے سے پالو آلٹو نیٹ ورک کے 134 کروڑ روپے کے شیئر خرید سکتے ہیں اور اتنی ہی قیمت کے شیئر انھیں اور دیے جائیں گے جس سے وہ سات سالوں تک بیچ نہیں پائیں گے۔سیلیکون ویلی میں واقع اس کمپنی کے شیئر میں ادھر گراوٹ آئی ہے۔ حالانکہ یہ گراوٹ امکانات کے بالکل الٹ ہے۔کمپنی کے منافع میں گذشتہ سال کے مقابلے میں اس سہ ماہی 29 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ کمپنی کا یہ منافع قیاس سے بھی بہتر ہے۔نکیش اروڑہ نے مارک مک کوکلن کی جگہ لی ہے۔ مارک 2011 سے لے کر اس ہفتے تک پالو آلٹو کے سی ای او تھے۔ مارک کمپنی میں بورڈ کے وائس چیئرمین رہیں گے جبکہ نکیش اروڑہ بورڈ کے چیئرمین بھی ہوں گے۔کئی لوگوں کے لیے یہ فیصلہ حیران کن ہے۔ کریڈٹ سوئس کے تجزیہ کار بریڈ زیلنک انہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔ بریڈ? نے فنائنشل ٹائمز کو بتایا کہ نکیش اروڑہ کے پاس سائبر سکیورٹی کا تجربہ نہیں ہے۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نکیش اروڑہ کے پاس کلاؤڈ اور ڈیٹا ڈیلنگ کا وسیع تجربہ ہے اور سائبر سکیورٹی ڈیٹا اینالسٹس کےمسئلے میں بری طرح جکڑی ہوئی ہے۔نکیش سے پہلے ایپل کے سی ای او ٹم کک ٹیکنالوجی کی دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے سی ای او تھے۔ ان کی سالانہ تنخواہ 11.9 کروڑ ڈالر تھی۔ 2014 میں جب نکیش نے گوگل کو چھوڑا تھا تب وہ پانچ کروڑ ڈالر کی سالانہ تنخواہ پر کام کر رہے تھے۔ اس کے بعد نکیش نے سوفٹ بینک جوائن کیا تھا اور یہاں انھوں نے 48.3 کروڑ ڈالر کے شیئر خریدے تھے۔ نکیش یہاں جون 2016 تک رہے تھے۔
یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.