نئے ڈیمزکی عدم تعمیر ،ہرسال کتنے ملین ایکٹر فٹ پانی سمندربردہوکرضائع ہورہاہے؟سیلاب سے متاثرہ ملک پاکستان پانی کی کمی کا کیوں شکا رہے؟ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی رپورٹ

بہاول پور(آن لائن) ملک میں نئے ڈیمزکی تعمیر نہ ہونے کے باعث ہرسال 34 ملین ایکٹر فٹ پانی سمندربردہوکرضائع ہورہاہے پاکستان کاشمار دنیا کے ایسے 15 ممالک میں ہونے لگاہے جہاں پر پانی کی دستیابی دباؤ کاشکار ہے ایشیئن ڈویلپمنٹ بنک کااپنی رپورٹ میں انکشاف تفصیل کے مطابق ماہرین کے مطابق پاکستان کاشمار ایسے ممالک میں ہوتاہےجہاں بین الاقوامی پیمانے کے

مطابق ایک ہزار دنوں کی ضرورت کے مطابق پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے مگرحکومت کی جانب سے نئے ڈیمز کی تعمیرکے حوالے سے عدم دلچسپی کے باعث محض پاکستان میں تیس دنوں کی ضروریات کاپانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتاہے آب پاشی کے ماہرین کے مطابق پاکستان کے پاس اس وقت 13 ملین ایکٹر فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے اورہرسال 34 ملین ایکٹر پانی سمندرمیں گرکاضائع ہورہاہے جسے ماہرین ناقص منصوبہ بندی کانتیجہ قراردیتے ہیں زرائع کے مطابق گذشتہ حکومت نے لیزرسے زمین ہموار کرنے کے آلات دینے اورڈرپ اریگیشن کے پروگرام شروع کئے تھے لیکن معلوم نہیں انکا کیابنا آب پاشی کے زرائع کے مطابق اگرحکومت نے پانی کی کمی کی طرف توجہ نہ دی تو یہ صرف ملک کی داخلی سلامتی ہی نہیں بلکہ خطہ کے امن کیلئے خطرہ بن سکتاہے آبادی کے تیزی سے اضافہ اورزرعی معیشت رکھنے والے ملک میں پانی کی قلت خورا ک کی کمی کے بحران جنم کودے سکتی ہے ملک بھرمیں جوچندایک ڈیمز بنائے بھی جارہے ہیں وہ تھوڑی بہت بجلی پیداکرسکتے ہیں لیکن پانی ذخیرہ کرنے کی کوئی خاص گنجائش نہیں رکھتے ماہرین کے مطابق تقریبا ہرسال سیلاب کے باعث پاکستان میں بربادی کی ایک نئی داستان رقم ہوتی ہے لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اس کے باوجود پاکستان پانی کی کمی کاشکارہورہاہے ۔

یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.