کالا باغ ڈیم نہ بننے سے پاکستان کا سالانہ کتنا نقصان ہورہا ہے؟ جان کر آپ بھی ’’ڈیم بناؤ پاکستان بچاؤ‘‘مہم کا فوری حصہ بن جائینگے

لاہور،اسلام آباد (این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک) سابق چیئرمین واپڈ ا شمس الملک نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم نہ بننے سے پاکستان کوسالانہ 180ارب روپے کانقصان ہورہا ہے ،سی پیک گیم چینجر کے ساتھ جغرافیائی چینجر بھی ہے ، اس کے ذریعے پاکستان کا ایشین ٹائیگر بننے کا خواب پورا ہو سکے گا۔انہوں نے کہا کہ پانی کے بڑے ذخائر کی تعمیر ہماری بقاء کا مسئلہ ہیں اور ہمیں اسطرف توجہ دینا ہو گی۔کالا باغ ڈیم نہ بننے سے پاکستان کو 180ارب روپے

کا نقصان ہورہا ہے جس سے پنجاب کو 100، سندھ کو 50اورخیبر پختوانخواہ کو 30ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے ۔پاکستان کی زراعت اور معیشت کی ترقی کے لئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر نا گزیر ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے پاکستان کا پانی روک کر پاکستان میں بجلی کا بحران پیدا کیا ہے ۔واضح رہے کہ پاکستانی عوام کی طرف سے سوشل میڈیا پر ایک بھرپور مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس مہم کا نعرہ ڈیم بناؤ، پاکستان بچاؤ ہے۔ اس مہم میں شریک سوشل میڈیا صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں سڑکیں نہیں چاہئیں، نہ میڑو بس چاہیے اور نہ ہی اورنج لائن ٹرین چاہیے، پاکستان کا مستقبل محفوظ بنانا ہے تو نئے ڈیم بنائے جائیں۔ اگر ملک میں کالا باغ اور دیگر ڈیم تعمیر نہ کیے گئے تو اگلے چند سالوں میں پاکستان پانی کی بوند بوند کو ترسے گا۔پانی کی قلت اور بھارت کا پاکستان کی طرف بہنے والے دریاوں پر ڈیم تعمیر کرنا واقعی پاکستان کے لیے پریشان کن ہے۔ مزید اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ افغانستان بھی بھارت کے تعاون سے، پاکستان کی طرف بہنے والے دریاوں پر ڈیم تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ بس یہ دیکھ کر لگتا ہے، جیسے ہر طرف سے پاکستان پر گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ ایٹمی طاقت ہونے کے سبب دشمن کھلم کھلا جنگ کا اعلان تو نہیں کرتا مگر پاکستان کیلئے وہ مشکلات پیدا کرنا چاہتا ہے،

واضح رہے کہ پاکستان میں تیزی سے پانی کی کمی واقع ہوتی جا رہی ہے ، پینے کا پانی تک نایاب ہوتا جا رہا ہے، ایک جانب سے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پانی کی کمی ہوتی جا رہی ہے تو دوسری جانب بھارت پاکستان کا پانی نئے ڈیم بنا کر روکتا جا رہا ہے۔ پانی کے اس اہم مسئلے پر کوئی سنجیدہ نظر نہیں آ رہا ، پاکستان میں بننے والی زیادہ تر حکومتوں کی توجہ ترقیاتی منصوبے پر ہی مرکوز رہتی ہے، پاکستان میں بننے والی حکومتوں نے کبھی بھی مستقبل کی فکر کرتے ہوئے پانی کے مسئلے کے حل کیلئے سنجیدگی سے کوئی کام نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں پانی کا بحران ہر گزرتے دن کیساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اسی وجہ سے سوشل میڈیا صارفین نے ڈیم بناؤ ، پاکستان بچاؤ کی مہم کا آغاز کیا ہوا ہے۔
یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.