تحریک انصاف کے چوہدری نثار سے رابطوں کا انکشاف

لاہور: سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت کے درمیان اختلافات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی ن لیگ سے 35 سالہ رفاقت کے خاتمے کا وقت آ گیا ہے۔تاہم پاکستان تحریک انصاف کی پوری کوشش ہے کہ چوہدری نثارعلی خان پی ٹی آئی میں شامل ہو جائیں۔

پاکستان تحریک انصاف نے کئی بار چوہدری نثار علی خان کو پی ٹی آئی میں شمولیت کی دعوت دی ہے جب کہ پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے خود بھی اس بات کااظہار کیا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ چوہدری نثار علی خان پی ٹی آئی میں شامل ہو جائیں۔۔عمران خان اور چوہدری نثار علی خان زمانہ طالب علمی سے دوست ہیں،تاہم دونوں کے سیاسی نظریات مخلتف ہیں۔
میڈیا پر یہ خبریں بھی گردش کر رہی تھیں کہ 29 اپریل کو پاکستان تحریک انصاف کے مینار پاکستان پر ہونے والے جلسے میں چوہدری نثار کپتان کے کھلاڑی بن جائیں گے۔تا ہم ایسی کوئی سیاسی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی اور چوہدری نثار علی خان نے پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے کی خبروں کی تردید بھی کی۔جس کے بعد یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ چوہدری نثار بطور آزاد امیدوار الیکشن لڑیں گے۔
چوہدری نثار علی خان نے چار حلقوں سے الیکشن لڑنے کا بھی اعلان کیا تھا۔لیکن اب چوہدری نثار کا ن لیگ سے قریبا صفایا ہو چکا ہے۔کیونکہ ٹکٹوں کی تقسیم کے لیے بنائے گئے ن لیگ کے پارلیمانی بورڈ میں بھی چوہدری نثار علی خان کو شامل نہیں کیا گیا۔ذرائع نے تحریک انصاف کے چوہدری نثار سے رابطوں کا انکشاف کیا ہے۔تاہم چوہدری نثار علی خان چاہتے ہیں کہ انہیں تحریک انصاف میں ان کے منصب کے مطابق عہدہ سے نوازا جائے۔
چوہدری نثار علی خان پی ٹی آئی میں شامل ہونے کی صورت میں تحریک انصاف کی حکومت میں آنے کے بعد صدر کے عہدے پر فائز ہونا چاہتے ہیں۔چوہدری نثار علی خان کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے حوالے سے پی ٹی آئی حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔دوسری طرف نواز شریف نے چوہدری نثار کے معاملے پر چپ سادھ لی ہے۔اور شہباز شریف کے چوہدری نثار علی خان سے متعلق دئیے گئے حالیہ بیان نے شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان بھی اختلافات پیدا کر دئیے ہیں۔
شہباز شریف نے اپنے ایک بیان میں چوہدری نثار کو ’بچہ ‘ قرار دیا تھا۔میڈیا ذارئع کے مطابق شہباز شریف کو نواز شریف اور چودھری نثار علی خان کے مابین اختلافات کو دور کرنے کا ٹارگٹ دیا گیا تھا، لیکن بظاہر وہ بھی میاں صاحب اور چودھری نثار علی خان کے مابین تعلقات بحال کرنے میں ناکام رہے ، تاہم اب دو روز قبل راجن پور کے دورے کے موقع پر نجی ٹی وی سے کو ایک واقعہ سناتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ 1988ء کی بات ہے، جب چوہدری نثار کی اصل دوستی نوازشریف کے ساتھ تھی۔
جبکہ اس زمانے میں چوہدری نثار میرے سخت مخالف تھے۔ چوہدری نثار میرے خلاف اکثر نوازشریف کو شکایات کرتے تو مجھے نوازشریفسے ڈانٹ پڑتی۔ لیکن کچھ عرصہ ایسے ہی گزرا تو بعد میں چوہدری نثار میرے گہرے دوست بن گئے۔۔۔چوہدری نثار میں بچپنا ہے اور بچے کو منانا پڑتا ہے۔ چوہدری نثار میں بچپنا ضرور ہے اور ہم اس کومناتے رہتے تھے۔ انہوں نے ایک سوال ’’چوہدری نثار اب مان جائیں گے؟‘‘ کے جواب میں کہا کہ اللہ خیر کرے گا۔
جس پر سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ حیرت ہے کہ شہبازشریف کو بچپنے اور سنجیدہ عمل میں فرق کا احساس نہیں،بچپنا وہ عمل ہے جو ان کی پارٹی قیادت اس وقت روا رکھے ہوئے ہے،بطور پارٹی صدر شہبازشریف بھی اس کے مداوے کیلئے کچھ نہیں کرپارہے ہیں۔بظاہر لگتا ہے کہ نواز شریف نے چوہدری نثار کو پارٹی سے نکالنے سے متعلق شہباز شریف کو بھی رضا مند کر لیا ہے۔تاہم اب چوہدری نثار کے تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کا بھی انکشاف کیا جا رہا ہے۔اور توقع کی جا رہی ہے کہ چوہدری نثار کے کسی بھی وقت تحریک انصاف کے ساتھ معاملات طے پائے جا سکتے ہیں۔جس کے بعد وہ تحریک انصاف میں شمولیت کا باضابطہ طور پر اعلان کریں گے۔
یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.