ہم کسی کونااہل یا مستقبل کوتباہ نہیں کرنا چاہتے،جسٹس عطاء بندیال

اسلام آباد : سپریم کورٹ کے جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ ہم کسی کو نااہل یا اس کےمستقبل کوتباہ نہیں کرناچاہتے،بظاہرخواجہ آصف نےتنخواہ ظاہرکی ہے،آمدن ظاہرکرنےپرکسی کونااہل نہیں کرسکتے،معلوم نہیں ساتھی ججزاس بات سےمتفق ہیں یانہیں،جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ آپ ہم سے نااہلی مانگ رہے ہیں،مقدمہ آرٹیکل62 ون ایف کے تحت مس ڈکلیئریشن نہیں بنتا توپھرمعاملہ اگلا ہوگا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں خواجہ آصف ناہلی کیس کی سماعت ہوئی۔ خواجہ آصف نے پی ٹی آئی رہنماء عثمان ڈار کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکوڑٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چینلج کر رکھا ہے۔ سپریم کورٹ میں خواجہ آصف نااہلی کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے عثمان ڈارکے وکیل سکندربشیرکے دلائل دیے کہ خواجہ آصف کی تنخواہ کی سالانہ آمدن 20 لاکھ درہم سے زائد بنتی تھی۔
خواجہ آصف نے صرف بطوررکن قومی اسمبلی اپنی تنخواہ ظاہرکی۔ خواجہ آصف نے کاغذات نامزدگی میں غیرملکی تنخواہ کو ظاہرنہیں کیا۔ وکیل عثمان ڈار نے مزید دلائل دیے کہ کاغذات نامزدگی میں بیرون ممالک کے اثاثے اورٹیکس ظاہرکرنے کا فارم موجود ہے۔ وکیل عثمان ڈار کے دلائل پرجسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ عثمان ڈارنے الیکشن پٹیشن میں یہ نکات نہیں اٹھائے۔
2011 میں ملازمتوں کے معاہدے کا ذکرنہیں کیا گیا۔ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں خواجہ آصف نے یہ تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ کاغذات نامزدگی میں جھوٹ بولا گیا یا نہیں،اس کا تعین کرنا ہے۔ تنخواہ کاغذات نامزدگی کے فارم میں کہاں دکھانا ضروری ہے،ہمیں کالم دکھائیں؟ وکیل عثمان ڈار نے دلائل دیے کہ 2010ء میں34 ملین روپے کاروبارسے وصول ہوئے اسکی تفصیلات کا ذکرنہیں۔
34ملین روپے کی ترسیلات زرکا ذریعہ آمدن ظاہرنہیں کیا گیا۔3.8 ملین کے ترسیلات زر2011ء میں وصول ہوئے جنہیں کاغذات نامزدگی میں ظاہرنہیں کیا۔ وکیل نے مزید کہا کہ خواجہ آصف نے6 ہزار سے زائد ایک سال کا ٹیکس دیا۔ جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہم انکم ٹیکس کے معاملے میں نہیں جائیں گے۔ کیا ہم اسے انکم ٹیکس میں غلطی کہہ سکتے ہیں؟ وکیل عثمان ڈار نے دلیل پیش کی کہ خواجہ آصف نے الیکشن کمیشن سے تفصیلات چھپائیں۔
جس پرجسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ہمارے پاس مقدمہ آرٹیکل62 ایف ون سےمتعلق ہے۔ مقدمہ آرٹیکل62 ون ایف کے تحت مس ڈکلیئریشن نہیں بنتا توپھرمعاملہ اگلا ہوگا۔ جسٹس عمرعطا بندیال نےاپنے ریمارکس میں کہا کہ کیا بیرون ملک سے وصول ترسیلات زرکوظاہرکرنا لازمی ہے؟ کیا مفادات کا ٹکراؤ آرٹیکل 62 ون ایف کا نفاذ ہوتا ہے؟تنخواہ کا مطلب اگرمحفوظ شدہ رقم ہواورفریق کہے کہ میں نے تنخواہ خرچ کردی تو پھر کیا ہوگا؟ کوشش ہے آج سماعت مکمل کرلیں۔
کاغذات نامزدگی میں جھوٹ بولا گیا یا نہیں،اس کا تعین کرنا ہے۔تنخواہ کاغذات نامزدگی کے فارم میں کہاں دکھانا ضروری ہے، ہمیں کالم دکھائیں۔ وکیل عثمان ڈار کے دلائل پرجسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ آپ ہم سے نااہلی مانگ رہے ہیں۔ جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ ہم کسی کو نااہل یا اس کے مستقبل کو تباہ نہیں کرنا چاہتے۔ بظاہر خواجہ آصف نے تنخواہ ظاہر کی ہے۔ آمدن ظاہر کرنے پرکسی کو نااہل نہیں کر سکتے۔ معلوم نہیں ساتھی ججزاس بات سے متفق ہیں یا نہیں ہیں۔
یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.