پاک فوج کا سابق آئی ایس ایس چیف کے خلاف سخت ایکشن

راولپنڈی : پاک فوج نے سابق آئی ایس آئی چیف جنرل (ر) اسد درانی کے خلاف سخت ایکشن لے لیا ہے، ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ جی ایچ کیو راولپنڈی نے سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی کیخلاف انکوائری کا حکم دے دیا ہے، جبکہ اسد درانی کا نام فوری ای سی ایل میں بھی ڈالنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے سابق آئی ایس آئی چیف جنرل راسد درانی کی بھارتی ہم منصب کے ساتھ کتاب کی اشاعت پر سخت ایکشن لیتے ہوئے آج انہیں ذاتی حیثیت میں جی ایچ کیوراولپنڈی میں طلب کیا گیا۔

جہاں پراسد درانی سے بھارتی ہم منصب کے ساتھ ملکر کتاب لکھنے پرپوچھ گچھ کی گئی۔ پاک فوج نے جنرل ر اسد درانی کیخلاف انکوائری کا حکم دیتے ہوئے باضابطہ کورٹ آف انکوائری قائم کردیا ہے۔۔کورٹ آف انکوائری کی سربراہی حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل کریں گے۔لیفٹیننٹ جنرل رینک افسر اسد درانی سے بھارتی ہم منصب کے ساتھ ملکر کتاب لکھنے کے معاملے کی انکوائری کریں گے۔
اسی طرح پاک فوج نے جنرل ر اسد درانی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست بھی دے دی ہے۔پاک فوج نے اسد درانی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے مجازاتھارٹی سے رابطہ کرلیا گیا ہے۔دوسری جانب وزارت داخلہ نے پاک فوج کی درخواست پر عمل درآمد شروع کردیا ہے۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ جنرل ر اسد درانی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے متعلقہ ادارے نے کام شروع کردیا ہے۔
تھوڑی دیر میں ہی جنرل ر اسد درانی کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا جائے گا۔ واضح رہے سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی نے بھارتی خفیہ ادارے را کے سابق چیف کیساتھ مشترکہ طور پر لکھی گئی کتاب میں دعوی کیا ہے کہ پاکستان نے معاہدے کے تحت اسامہ بن لادن کو پکڑوایا۔ جبکہ پاکستان جلد کلبھوشن یادیو کو بھی چھوڑ دے گا۔ اس کے علاوہ بھی اس درانی کی جانب سے کئی تہلکہ خیز دعوے کیے گئے ہیں۔
جنرل اسد درانی کے کتاب پرفوجی قیادت نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے25 مئی کواپنے پیغام میں بتایا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) اسد درانی کو 28 مئی کو جی ایچ کیو طلب کرلیا گیا ہے۔جہاں پران کی کتاب میں شائع ہونے والی باتوں سے متعلق انکوائری کی جائے گی۔ کہ انہوں نے جو باتیں پاک فوج سے متعلق اپنی کتاب میں منسوب کیں کیا وہ درست ہیں یا نہیں؟ ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ تمام حاضر اور ریٹائرڈ فوجیوں پر لاگو ہوتا ہے۔
یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.