نگران وزیراعظم کے معاملے پر پیپلزپارٹی سے مذاکرات کا ڈراپ سین، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اہم ترین اعلان کردیا

اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ بد قسمتی سے اپوزیشن کے ساتھ نگران وزیراعظم کے نام پراتفاق نہیں ہو سکا۔ پیپلزپارٹی کا اصرار ہے کہ نگران وزیراعظم ان کے تجویز کردہ نام سے ہو، پوری کوشش ہے کہ صاف شفاف الیکشن منعقد کرائیں۔ مسلم لیگ ن اصولوں پرسیاست کرتی ہے۔ نیب عدالت سے نواز شریف کو انصاف ملنے کی توقع نہیں ہے۔ نواز شریف کے بیان کو پڑھے سمجھے بغیر اچھالا گیا سول ،عسکری قیادت کے آپس میں اعتماد سے ملک بہتر ترقی کرسکتا ہےنیب ادارہ ایک آمر نے سیاستدانوں کو دبانے کیلئے بنایا۔

ہر شخص تسلیم کرتا ہے کہ ہماری حکومت نے اچھا بجٹ پیش کیا۔گزشتہ روزنجی ٹی وی کو خصوصی انڑویو دیتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بد قسمتی سے خورشید شاہ کے ساتھ نگران وزیراعظم پر اتفاق رائے نہیں ہو پایا۔ امید ہے کل دوبارہ ان سے مشاورت کر کے اتفاق کر لیا جائے گا۔ اگر اتفاق نہ ہو پایا تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دیا جائے گا۔ پیپلزپارٹی کا اصرار ہے کہ نگران وزیراعظم ان کے تجویز کردہ نام کا ہو انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں ماضی سے سبق لینا چاہئے اور فیصلہ عوام پر چھوڑنا چاہئے ہماری پوری کوشش ہے کہ پاکستان کے عوام کوصاف شفاف الیکشن منعقد کروائیں۔ بہتر کارکردگی اورووٹ کوعزت دو کے بیانیہ کو لے کر آئندہ انتخابات میں جائیں گے۔ نواز شریف نے ہمیشہ ملکی ترقی کی بات کی۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ عوام جانتی ہے کہ ملک میں کیا حالات چل رہے ہیں پاکستان کی عوام کو الیکشن میں ایک کھلم کھلا موقع دیں کہ وہ شفاف طریقے سے الیکشن میں حصہ لے سکیں۔ کچھ بنیادی اصول ایسے ہیں جس پر کمپرومائز نہیں کر سکتا جس فیصلے میں اخلاق اورعزت نہ ہو وہ کبھی نہیں کرتے لوگوں کا پارٹی میںآنا اور چھوڑنا ایک سلسلہ ہے جو چلتا رہتا ہے۔پارٹی چھوڑنے والے 4 سال 11 مہینے ساتھ رہے۔ حکومت نے جو کام کیے ہیں عوام نے قبول کیا ہے۔ہم اصولوں پر الیکشن لڑتے ہیں اقتدار کے لئے سیاست میں نہیں آئے ہیں 2013 کے نسبت بہتر پاکستان دنیا کے سامنے ہے۔ مسلم لیگ ن اصولوں پر سیاست کرتی آ رہی ہے۔ مسلم لیگ ن میں کوئی دراڑیں نہیں ہیں۔ ہر حلقے میں مسلم لیگ ن کے 3 سے 4 مضبوط امید وار ہیں۔ مسلم لیگ ن کے دو نہیں ایک ہی بیانیہ ہے۔ نیب عدالت سے نواز شریف کو انصاف ملنے کی توقع نہیں ہے۔ نواز شریف پر صرف الزامات ہیں جو ثابت بھی نہیں ہوئے اس کے باوجود سیاست میں تمام چیزوں سے محروم کر دیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کو اصولوں پر چلنے کی سزاد ی گئی ۔ اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، جیل جائیں گے۔ نواز شریف کے بیانات کے اثرات پر قومی سلامتی کا میٹنگ بلوایا۔ نواز شریف کے بیان کو پڑھے بغیر اچھالا گیا۔ وزیراعظم کا مزیدکہنا تھا کہ سول اور عسکری قیادت کے آپس میں اعتماد ہو تو ملک بہتر طریقے سے ترقی کر سکتا ہے۔ فاٹا کے ایشوز پرحکومت اورفوج نے جلدی سے فیصلہ کیا اور بھی کئی ایسے ایشوز ہیں جو حل طلب ہے جسے حکومت او رفوج نے آپس میں مل بیٹھ کر حل کرنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالت اور نیب کی وجہ سے بیوروکریسی اور حکومت فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں آج جسے حالات ہیں ملک چلانا مشل ہو گیاہے۔ بیور کریسی کوئی سمری پیش کرنے کو تیار بھی نہیں ہے۔ جس ملک میں قیادت فیصلہ کرنا چھوڑ دیں وہ ملک کیسے چلے گا۔ ایک آمر نے سیاستدانوں کو دبانے کیلئے نیب بنایا ۔ ہماری کوشش تھی کہ اتفاق رائے سے نیب کو ختم کیا جائے نیب موجودہ حالات میں ملکی ترقی میں رکاوٹ بن گیاہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ ایمنسٹی سکیم میں سب سے بڑی رکاوٹ عدالت ہے۔ جو کاروبار کرتے ہیں ان پر لازم ہے کہ ٹیکسز بھی ادا کیا کریں۔ آج ہر شخص تسلیم کرتا ہے کہ ہماری حکومت نے ایک اچھا بجٹ پیش کیا۔

یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.