’’عمران خان اور جہانگیر ترین سرٹیفائیڈ چور ہیں‘‘ تھپڑ کھانے کے باوجود دانیال عزیز باز نہ آئے،کیا کچھ کہہ دیا؟

اسلام آباد(سی پی پی)مسلم لیگ (ن) کے رہنما دانیال عزیز نے کہا ہے کہ مجھے 100کے ایجنڈے کا جواب نہیں آیا اورپی ٹی آئی والے ہاتھا پائی پر اتر آئے،یہ کس قسم کا پاکستان بنانا چاہتے ہیں؟ نعیم الحق کو چیلنج کرتاہوں کہ وہ مجھے غلط ثابت کرے،یہ شخص کبھی کونسلر بھی نہیں بنے گا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے نجکاری دانیال عزیز چودھری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی لیڈرشپ چور ہے ،

جہانگیر ترین نے مالی اورباورچی کے ذریعے کروڑوں روپے کا کاروبارکیا،انہوں نے ایس ای سی پی کو کروڑوں روپے واپس کیے،یہاں تک کہ انہوں نے انسائیڈر ٹریڈنگ کا اقرار کیا،عمران خان اور جہانگیر ترین نے لکھ کردیاہے کہ انھوں نے پیسے چوری کیے،عمران خان نے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھایا،انھوں نے چوری کے پیسے واپس کیے اورعدالت کو لکھ کردیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان اور جہانگیر ترین سرٹیفائیڈ چور ہیں ، عمران خان ایک دن بھی شامل تفتیش نہیں ہوئے اورعدالت نے رہا کردیا،عمران خان کو شامل تفتیش ہونے کے لیے ضمانت دی گئی ، ہم کس کو درخواست دیں؟ انھوں نے پولیس والوں کو مارا3سال مفروررہے کس نے پوچھا؟کون ان کے اندر بول رہاہے ؟ کون انہیں تھپکیاں دیتاہے؟انھوں نے پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملہ کیا ان کوقوم سے معافی مانگنی چاہیے۔دریں اثناء وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ جمہوریت میں جتنی جان تھی اتنی دیر تک مشرف کو روکے رکھا گیا ،ہم نے عمران خان کے مینڈیٹ کا تحفظ کیا ہے تو اس کی سزا نہ دی جائے ۔قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مشرف کا نام عدالت کے حکم پر ای سی ایل سے نکالا گیا جمہوریت میں جتنی جان تھی اتنی دیر تک مشرف کوروکے رکھا، جمہوریت کو کمزور کرنے میں عمران خان کی جماعت کا مرکزی کردار رہا ہے، کون امپائر کی آوازیں نکالتا اور پارلیمنٹ کو لعن طعن کرتا تھا، پارلیمنٹ کاجنگلہ توڑاگیا،پی ٹی وی پرقبضہ کرایاگیا اور عمران خان باآوازبلندطاہرالقادری کومبارکباددیتے رہے۔انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں ہم الیکشن میں جارہے ہیں جب نفرت پھیل رہی ہے کیونکہ نفرت کے جو بیج بوئے گئے آج وہ تناور درخت بن چکے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے

عمران خان کو مخاطب کرکے کہا ایوان نے آپ کے مینڈیٹ کا تحفظ کیا اور استعفے واپس کیے ، اگر آپ آج ایوان میں ہیں تو یہ ہماری مہربانی ہے اس کی سزا نہ دیں۔ ہم کسی کی نا اہلی کے حق میں نہیں ہیں باریاں سب نے دی ہیں اللہ نہ کرے کہ آپ کی بھی باری آئے سیاست سے نکالنے کا یہ طریقہ ختم ہونا چاہیے، اپنی غلطیاں اور خرابیاں دوسروں پر ڈالنے کی کوشش نہ کریں۔

یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.