جب میں اٹک جیل میں اپنے والد نواز شریف سے ملنے جاتی تھی تو ملاقات سے پہلے میرے ساتھ کیسا شرمناک سلوک کیا جاتا تھا؟ مریم نواز نے نیا تنازعہ کھڑا کر دیا

اٹک (نیوز ڈیسک) سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اٹک میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب جنرل مشرف نے منتخب جمہوری حکومت پر قبضہ کرکے نواز شریف کو اٹک جیل میں بند کردیا تھا تو میں جب اپنے والد کو اٹک جیل میں ملنے کیلئے آتی تھی تو سزائے موت کے قیدیوں کو کال کوٹھڑیوں سے نکال کربیڑیوں سمیت میرے اور میری والدہ کے ساتھ بٹھا دیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف نے اس وقت بھی عوام سے محبت کی سزا بھگتی تھی

جب مشرف نے جرنیلوں کے ساتھ ملکر اوورٹیک کیا تھا اور اب بھی وہ عدالتوں میں روزے کی حالت میں چار چار گھنٹے کھڑے ہوکر عوام سے محبت کی سزا بھگت رہے ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ پاناما پر میاں نواز شریف درجنوں پیشیاں بھگت چکے ہیں مگر جن چار سو لوگوں کا نام پاناما میں موجود تھا ان کو کسی نے نہیں بلایا اور انہوں نے نہ ہی کوئی پیشی بھگتی ہے۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنے بیٹے سے کسی نے آج تک تنخواہ لی ہے مگر نواز شریف پر کرپشن کا مقدمہ بنایا اور ان پر ایک پائی کی کرپشن بھی ثابت نہیں ہوئی لیکن پھر انہیں بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکال دیا گیا۔ میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اٹک میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب جنرل مشرف نے منتخب جمہوری حکومت پر قبضہ کرکے نواز شریف کو اٹک جیل میں بند کردیا تھا تو میں جب اپنے والد کو اٹک جیل میں ملنے کیلئے آتی تھی تو سزائے موت کے قیدیوں کو کال کوٹھڑیوں سے نکال کربیڑیوں سمیت میرے اور میری والدہ کے ساتھ بٹھا دیا جاتا تھا۔ نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے میاں نواز شریف نے اس وقت بھی عوام سے محبت کی سزا بھگتی تھی جب مشرف نے جرنیلوں کے ساتھ ملکر اوورٹیک کیا تھا اور اب بھی وہ عدالتوں میں روزے کی حالت میں چار چار گھنٹے کھڑے ہوکر عوام سے محبت کی سزا بھگت رہے ہیں۔
یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.