مجھ پر کسی بزدل نے حملہ کیا ، مجھے کال آئی ، فون اُٹھایا تو میری کہنی ڈھال بن گئی

اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال قاتلانہ حملے کے بعد قومی اسمبلی میں تشریف لائے تو انہوں نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ایک بزدل جنونی نے مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر حملے کے واقعے کے چند سیکنڈ قبل مجھ ایک فون کال آئی، میں فون اُٹھایا جس کی وجہ سے میری کہنی ڈھال بن گئی، انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے میرے خاندان سے اظہار یکجہتی کیا تو ان کی آنکھوں میں نمی تھی،دہشتگردی کے ناسور کے باعث بلاول کی والدہ بھی شہید ہوئیں، عمران خان نے مجھے گلدستہ بھیجا، جو شخص گلدستہ لے کر آیا وہ شام کو اس حملے کا ٹی وی پر دفاع کر رہا تھا، جس پر ان کا شکر گزار ہوں،خوشی ہوتی اگر یہ گلدستہ شیریں مزاری ، اسد عمر اور شفقت محمود لے کر آتے۔

ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ مذہبی رہنما ملک میں شدت پسندی کی سرکوبی کریں، کسی فرد یا گروہ کا کوئی حق نہیں کہ کسی کے ایمان کا فیصلہ کرے۔ جید علما کا فتویٰ ہے کہ جہاد کا فیصلہ صرف ریاست کر سکتی ہے، ہم نے پاکستان کو مزید آگ میں جلنے سے روکنا ہے،ہمارے دین نے ہمیں امن اور بھائی چارے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سیاست میں نفرت کو بہت ہوا دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے اقامے کے حوالے سے باتیں کی جا رہی ہیں، میں اقامے کےحوالے سے اپنا کیس پارلیمنٹ میں پیش کرتا ہوں، احسن اقبال نے اپنے اقامے کے حوالے سے وضاحتی خط ایوان میں پیش کردیا، 2011ء سے 2015ء تک گلوبل اکیڈمک کونسل نے اعزازی اقامہ دے رکھا تھا۔ یاد رہے کہ وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال شکرگڑھ کی تحصیل کنجرورمیں عوامی جلسے سے خطاب کے بعدواپس جارہے تھے کہ ان پر فائرنگ کی گئی۔ جس کے بعد احسن اقبال کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ فائرنگ کرنے والے شخص کو بھی گرفتار کر لیا گیا ۔ ملزم نے پولیس کو دئے گئے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ میں نے احسن اقبال کو گولی توہین رسالتﷺ کرنے پر ماری۔
یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.