کراچی میں ہیٹ اسٹروک، ہوا میں نمی صرف چار فیصد رہ گئی،آئندہ چند دن میں کیا ہونیوالے ہے ؟ محکمہ موسمیات نے انتہائی تشویشناک پیش گوئی کردی

کراچی(این این آئی)شہر قائد ہیٹ اسٹروک (لو) کی لپیٹ میں ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر کا درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ اور ہوا میں نمی کا تناسب بھی خطرناک حد تک گر نے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق روشنیوں کے شہر میں درجہ حرارت صبح ہی 27 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا۔ شہر میں دن 12 بجے ہوا میں نمی کا تناسب چار فیصد رہ گیا تھا۔گزشتہ تین دن سے شہر شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، گرم ہوا نے لوگوں کی زندگی اجیرن کی ہوئی ہے۔محکمہ موسمیات نے شہریوں کو مشورہ

دیا ہے کہ وہ بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں، گھر سے باہر جانے کے دوران سر پر گیلا کپڑا رکھیں اور پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔طبی ماہرین نے عوام الناس کو خبردارکیا ہے کہ وہ گرمی کی شدت کے دوران تمام احتیاطی تدابیر سے کام لیں تاکہ ہیٹ اسٹروک سے محفوظ رہ سکیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق سبی میں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ لاڑکانہ، سکھر، بدین اورٹھٹھہ میں درجہ حرارت 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے دیگر علاقوں میں بھی گرمی کی لہر اور شدت برقرار ہے۔دریں اثناء محکمہ صحت سندھ کے ترجمان نے فلاحی ادارے ایدھی فانڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کا ہیٹ اسٹروک سے متعلق بیان مسترد کردیا۔محکمہ صحت کے ترجمان ڈاکٹر ظفرمہدی نے واضح کیا کہ کراچی میں لو چلنے سے اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں نہیں ہوئی ہیں۔محکمہ سندھ نے فیصل ایدھی کا بیان مسترد کرتے ہوئے ان سے ایدھی خانے میں لائی جانے والی میتوں اور لواحقین کے بیانات کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔گزشتہ روز فیصل ایدھی نے بیان دیا تھا کہ کورنگی سرد خانے میں پچھلے دو دنوں میں 65 میتیں لائی گئی ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ لواحقین نے ہیٹ ویو (لو) کو ہلاکتوں کی وجہ قرار دیا تھا۔فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ مرنے والوں میں جوان لڑکے،لڑکیاں اورعمررسیدہ افراد شامل ہیں۔ ایدھی کے سرد خانوں میں مجموعی طورپر میتوں کی تعداد تین گنا بڑھ گئی ہے تاہم گرمی کی لہر سے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد کا کوئی ڈیٹا بیس موجود نہیں۔گزشتہ ایک ہفتے سے کراچی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے جہاں پارہ 44 ڈگری کو چھو رہا ہے۔ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ گرمی کی یہ لہر بدھ 23 مئی تک جاری رہے گی۔جبکہ پاکستان کے سابقہ دارالحکومت اور اکنامک حب کراچی میں جہاں ایک طرف گرم موسم کا قہر برس رہا ہےوہاں دوسری طرف پانی کی بلیک میں فروخت بھی جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی واٹر بورڈ کی انتظامیہ مختلف علاقوں کو سرکاری ہائیڈرنٹس سے پانی کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔کراچی کے متعدد علاقے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں، رمضان کے مقدس مہینے میں صورت حال اور بھی خراب ہوگئی ہے جب کہ مقامی حکومت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ضلع غربی میں واٹر بورڈ کا عملہ اپنے من پسند علاقوں کو پانی فراہم کر رہا ہے جب کہ دیگر علاقوں کو غیر قانونی طور پر پانی سےمکمل طور پر محروم رکھا گیا ہے۔واٹر بورڈ کے 8 نمبر ہائیڈرنٹ سے علاقہ مکینوں کو پانی بلیک میں فروخت کیا جارہا ہے، معلوم ہوا ہے کہ پانی کی فروخت میں واٹر بورڈ کا عملہ خود ملوث ہے، جس کی وجہ سے علاقہ مکین 4 سے 6 ہزار روپے میں ٹینکرخریدنے پر مجبور ہیں۔شہر کے متعدد علاقوں میں پانی کی ترسیل نہیں ہو پارہی ہے، جن میں بلدیہ ٹان، قائم خانی کالونی اورسعید آباد کے علاقوں کے علاوہ نارتھ ناظم آباد بلاک اے، حسرت موہانی سوسائٹی، نارتھ کراچی سرسید ٹان، پاپوش نگر، پہاڑ گنج، ڈی سلوا ٹان، قائد آباد، ملیر، گلستان جوہر بلاک 14، گلشن معمار، محمود آباد اور لیاری شامل ہیں جب کہ سائٹ میٹروول میں دو ماہ سے پانی بند ہے۔

یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.