احتساب عدالت:نوازشریف نے10سوالوں کے جوابات دے دیے

اسلام آباد : پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف نے احتساب عدالت کی طرف سے پوچھے گئے 10سوالوں کے جواب دے دیے، نوازشریف جواب دینے کے دوران جیب سے رومال نکال کر پسینہ صاف کرتے رہے،عدالتی سوالنامہ میں پہلے10 سوالات جےآئی ٹی کی تشکیل اورایم ایل ایز سے متعلق ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان سے127 سوال پوچھ لیے ہیں جس کا سوالنامہ شریف فیملی کو دے دیا گیا ہے۔

سوالنامہ 90صفحات پرمشتمل ہے۔عدالتی سوالنامے میں نواز شریف سےعوامی عہدوں سےمتعلق بھی سوال شامل کیے گئے،،عدالت نے تینوں ملزمان سے کئی مشترکہ سوال بھی پوچھے۔ تاہم سابق وزیراعظم نواز شریف آج احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ نوازشریف نے ایک گھنٹے میں 10سوالات کے جوابات ددے دیے ہیں۔ عدالتی سوالنامہ میں پہلے10 سوالات جےآئی ٹی کی تشکیل اورایم ایل ایز سے متعلق ہیں۔
اس موقع پرعدالت میں نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث سوالات کے جوابات دینے میں ان کی معاونت کرتے رہے۔ جبکہ نوازشریف جواب دینے کے دوران جیب سے رومال نکال کر پسینہ صاف کرتے رہے۔ عدالت میں منی ٹریل سے متعلق سوال پرنواز شریف نے جواب دیا کہ یہ سوال حسن اورحسین نواز سے متعلق ہے۔ تاہم اس وقت حسن اورحسین نوازعدالت کے سامنے موجود نہیں ہیں۔
نواز شریف نے کہا کہ استغاثہ نے ایسے کوئی شواہد نہیں دیے جس سے میرا لندن فلیٹ سے تعلق ظاہرہو۔ حدیبیہ پیپر ملز اورگلف اسٹیل کے قیام میں میرا کوئی کردارنہیں رہا۔ نوازشریف نے کہا کہ میرے براہ راست علم میں نہیں کہ گلف اسٹیل کے قیام کیلئے فنڈزکہاں سے آئے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف نے ایک سوال پرجواب دیا کہ طارق شفیع کے بیان حلفی سے ظاہر ہوتا ہےگلف اسٹیل قرض کی رقم سے بنائی گئی۔
طارق شفیع کو اس کیس میں نہ تو ملزم نامزد کیا گیا ہے نہ ہی گواہ ہے۔ گلف اسٹیل کے 25 فیصد حصص کی فروخت کے معاہدے سے متعلق ایم ایل اے پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 1980ء کے معاہدے پر شہباز شریف اور طارق شفیع کےدستخط سے انکارپرکچھ نہیں کہ سکتا۔ طارق شفیع اور شہباز شریف نے میری موجودگی میں دستخطوں سے انکار نہیں کیا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ 12اکتوبر1999ء کو مجھے حراست میں لے لیا گیا۔تب مجھے گرفتار کرکےغیر قانونی حراست میں رکھا گیا۔ جبکہ بعد میں مجھے سعودی عرب جلا وطن کر دیا گیا جہاں سےمیری2007ء میں واپسی ہوئی۔
یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.