پاکستان کے اہم شہر میں قیامت خیز گرمی، پارہ 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا،امتحانی پرچے ملتوی،پانی بند، طویل ترین لوڈشیڈنگ نے عوام کی چیخیں نکال دیں

کراچی(این این آئی)پاکستان کے اہم شہر میں قیامت خیز گرمی، پارہ 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا،امتحانی پرچے ملتوی،پانی بند، طویل ترین لوڈشیڈنگ نے عوام کی چیخیں نکال دیں،شہر قائد میں جھلسادینے والی گرمی نے روزے داروں کو نڈھال کردیا، اتوارکو پارہ 44ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا،قیامت خیز گرمی کے باعث لوگ بلبلا اٹھے۔محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں اتوارکادن سال کا گرم ترین دنرہا۔ شہر میں سورج آگ برسانے لگا، قیامت خیز گرمی کے باعث لوگ بلبلا اٹھے۔دوپہر 3 بجے کراچی کا درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جبکہ گرمی کی شدت (ہیٹ انڈیکس)47ڈگری

محسوس کی گئی اور ہوامیں نمی کا تناسب 15 فیصد سے بھی کم ریکارڈ کیا گیا۔ سمندری ہوائیں بند ہونے، شدید حبس اور گرمی کے باعث شہریوں کا جینا دشوارہوگیا۔شدید گرمی، ہوا، پانی کی بندش اورکے الیکٹرک کی جانب سے فنی خرابیوں کے نام پر طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے رمضان المبارک کے ابتدائی ایام میں لوگوں کیلئے مشکلات بڑھادیں۔ گرم موسم کے باعث شہر میں ویرانی اور سڑکوں پر سناٹا چھایارہا۔شہریوں نے گرمی سے بچنے کیلئے خود کو گھروں تک محدود رکھا۔محکمہ موسمیات19 سے23مئی تک ہیٹ ویو الرٹ جاری کرچکا ہے، گزشتہ روز بھی کراچی کا درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ طبی ماہرین نے شہریوں کو دھوپ میں جانے سے گریز کرنے کامشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مجبورا جانا بھی پڑے تو چھتری استعمال کریں اورسرپرگیلاکپڑارکھیں۔ جب کہ صوبائی حکومت نے صورت حال سے نمٹنے کیلئے کراچی کی مقامی انتظامیہ کو خصوصی ہدایت کررکھی ہیں اس کے علاوہ ہیٹ اسٹروک کے پیش نظر شہر کے سرکاری ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ ہے۔اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے شہر میں ہیٹ ویو کے پیش نظر 21 تا 23 مئی ہونے والے پرچے ملتوی کردیئے ہیں۔چیئرمین انٹر بورڈ کے اعلان کےمطابق کراچی میں شدید گرمی کی لہر آئندہ چند روز مزید برقرار رہنے کی پیش گوئی کے سبب21، 22 اور 23 مئی کو ہونے والے انٹر کے سالانہ امتحانات ملتوی کردیئے گئے ہیں۔چیئرمین انٹربورڈ کے مطابق ملتوی شدہ پرچوں کی نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا جب کہ 24 مئی سے تمام پرچے سابقہ شیڈول کے مطابق ہی ہوں گے۔واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز میں درجہ حرارت بڑھنے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے ہیٹ ویو کے سبب شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔جماعت اسلامی ضلع جنوبی کے زیر اہتمام لیاری میں پانی کی بندش کے خلاف ماڑی پور روڈ پر دھرنا ، اہل لیاری نے ماڑی پور روڈ پاحتجاجا افطار کیا، مردو خواتین ، نوجوانوں اور بچوں کی بڑی تعداد مٹکے اٹھائے ماڑی پور روڈ پر جمع ہوگئی اور دھرنا دے دیا ، مظاہرین کے لیاری کو پانی دو لیاری کو بجلی دوکے نعرے لگاتے ہوئے سڑک پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے ، احتجاج کی قیادت جماعت اسلامی ضلع جنوبی کے امیر سید عبد الرشید کر رہے ہیں، اس موقع پر جماعت اسلامی کے نائب امیر سید طاہر اکبراور امیر زون لیاری سید ابو ارحم سمیت دیگر بھی موجود ہیں ۔ جماعت اسلامی ضلع جنوبی کے امیر سید عبد الرشید نے انتظامیہ کو الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر لیاری کو فوری طور پر پانی کی فراہمی شروع نہ کی گئی تو وہ احتجاج سحری بھی ماڑی پور روڈ پر کریں گے ، ماڑی پور روڈ کو احتجاج دھرنا دے کر بند رکھا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ شدید گرمی میں پانی سے محروم ہیں روزہ احتجاج ماڑی پور روڈ پر کھول رہے ہیں ،پانی کامسئلہ حل نہ ہوا تو احتجاج جاری رہیگا ،سید عبدالرشید نے کہا کہلیاری کو نیویارک بنانے والے آج لیاری آنے سے ڈرتے ہیں ، لیاری سے ووٹ لے کر اقتدار میں آنے والی پیپلز پارٹی نے لیاری کو کربلا بنا دیا ہے ،سندھ حکومت لیاری کا پانی بیچ رہی ہے ، لیاری کے بیشتر علاقوں میں 6ماہ سے پانی نہیں مل رہا ، گزشتہ 10سال سے صوبے پر حکومت کرنے والی پیپلز پارٹی لیاری کے عوام کو محض جھوٹی تسلیاں اور جھوٹے وعدوں کے سوا کچھ نہیں دے رہی ، پورے شہر میں سڑکوں کو جال بچھایا جا رہا ہے لیکن اہل لیاری پانی جیسی بنیادی سہولت سے بھی محروم ہیں ،لیاری کے عوام کو پانی میسر ہے نہ بجلی، گندگی کے ڈھیر اور ٹوٹی سڑکیں اہل لیاری کا مقدر بنا دی گئی ہیں ،ان کا کہنا تھا کہ اب لیاری کے عوام کو دھوکا نہیں دیا جا سکتا ، لیاری کے عوام بیدار ہیں اور وہ اپنا حق لینا جانتے ہیں۔بن قاسم پاور پلانٹ میں ہالینڈ سے منگوائے گئے پرزے کی تنصیب کے باوجود کراچی کے شہریوں کو لوڈ شیڈنگ سے نجات نہیں مل سکی ہے۔شہر قائد میں شدید گرمی اور رمضان المبارک میں بھی بجلی کی آنکھ مچولی بدستور جاری ہے اور کے الیکٹرک کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔کورنگی، کیماڑی، ناظم آباد، بفرزون، لانڈھی، ملیر، گلشن اقبال، گلستان جوہر، بلدیہ ٹاؤن، انچولی، کھارا در اور لیاقت آباد سمیت مختلف علاقوں میں بجلی کی طویل اور غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ جاری ہے جبکہ بعض علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کے باعث پانی کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ایک طرف شہر کا درجہ حرارت44ڈگری سے تجاوز کرگیا ہے اور ہیٹ اسٹروک کا بھی خطرہ ہے لیکن کے الیکٹرک کی جانب سے شہریوں کو کوئی ریلیف نہیں دیا جا رہا۔دوسری جانب ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ رمضان میں صارفین کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے گا جبکہ خراب ہونے والے پرزے کی تنصیب بھی بلا تاخیر کردی گئی ہے اور پلانٹ پر ٹیسٹنگ کا عمل جاری ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ شہر میں شیڈول کے مطابق لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے جبکہ نقصانات والے علاقوں میں بھی 17 گھنٹے بجلی فراہم کی جا رہی ہے، مقامی فالٹس کو لوڈ شیڈنگ سے تشبیہ نہ دی جائے۔واضح رہے کہ کچھ روز قبل کے الیکٹرک کے بن قاسم پاور پلانٹ میں ایک اہم پرزے کی خرابی کے باعث شہر میں لوڈ شیڈنگ میں مزید اضافہ ہوگیا تھا تاہم اس کی تنصیب کے بعد بھی اب تک بجلی کی اعلانیہ اورغیراعلانیہ لوڈشیڈنگ میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔

یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.