’’سیدھی کھڑی نہیں ہوسکتی؟‘‘ایکسرے ٹیکنیشن نے مکا مارکر بچی ماردی لیکن پھر متاثرہ والدین اور ہسپتال انتظامیہ نے کس شرط پر سودے بازی کرلی؟افسوسناک انکشافات

بہاولپور (این این آئی)بہاولپور کے ایک نجی ہسپتال میں ایکسرے ٹیکنیشن کے مبینہ تشدد سے 9 سالہ بچی کے جاں بحق ہونے کے بعد فریقین میں صلح ہوگئی اور متاثرہ والدین نے مقدمہ درج کرانے سے انکار کرتے ہوئے آبائی علاقے میں بچی کی تدفین کردی۔نجی ٹی وی کے مطابقضلع بہاولپور کی تحصیل حاصل پور کی

نواحی بستی تلہڑ کا رہائشی بشیر نامی ایک شخص تپ دق کی مریض اپنی 9 سالہ بیٹی سونیا کو گذشتہ شام 4 بجے ایکسرے کے لیے نجی ہسپتال لایا تھا ٗ بچی بیمار تھی اس لیے سیدھی کھڑی نہیں ہو رہی تھی۔اپنے ابتدائی بیان میں بشیر نے بتایا کہ ایکسرے روم میں ٹیکنیشن سلیم نے بچی کو پکڑ کر کھڑے ہونے کا کہا تاہم بچی سیدھی کھڑی نہ ہوئی تو ٹیکنیشن نے بچی اور اسے بھی گھونسا مارا۔گھونسا لگنے سے بچی وہیں ایکسرے مشین کے پاس گر گئی اور موقع پر ہی دم توڑ گئی۔بچی کے انتقال پر والد نے احتجاج کیا تو پولیس اور اسسٹنٹ کمشنر دانش ذاکر موقع پر پہنچے۔بعدازاں ہسپتال انتظامیہ اور پولیس کے دباؤ پر ٹیکنیشن اور فریقین میں صلح نامہ کرلیا گیا اور اس پر باقاعدہ دستخط بھی ہوئے۔رپورٹس کے مطابق اس صلح کیلئے ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے بچی کے والد کو مبینہ طور پر ڈیڑھ لاکھ روپے بھی ادا کیے گئے جس کے بعد بغیر کسی پولیس کارروائی کے بچی کی آبائی علاقے میں تدفین کردی گئی۔ذرائع کے مطابق پولیس نے ایکسرے ٹیکنیشن سلیم کو حراست میں بھی نہیں لیا۔دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا ہے کہ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ بچی کی موت کے حوالے سے رپورٹ تیار کر رہا ہے۔

یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.