ایون فیلڈریفرنس، گلف سٹیل ملز کے کنٹریکٹ کی تصدیق نہیں کرائی ، اسے درست تسلیم کیا، واجد ضیا

اسلام آباد (آئی این پی ) احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف‘ مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف ایون فیلڈ (لندن فلیٹس) ریفرنس میں تیسرے روز بھی استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء پر جرح جاری رہی‘ واجد ضیا نے دوران جرح بتایا کہ گلف سٹیل ملز 1978 میں قائم کی گئی‘ جے آئی ٹی نے گلف سٹیل ملز کے کنٹریکٹ کی تصدیق نہیں کرائی تاہم اسے درست تسلیم کیا‘ گلف سٹیل ملز کی مشینری شارجہ سے جدہ گئی‘ جے آئی ٹی نے سٹیل ملز کے گواہ عبدالوہاب سے رابطہ نہیں کیا۔

تاہم گواہ نمبر دو محمد اکرم سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم وہ دیئے گئے پتہ پر موجود نہیں تھے‘ رقم ادا کرنے والے عبداللہ سے رقم کی ادائیگی سے متعلق بھی رابطہ نہیں کیا،ہمارے پاس کوئی ایسی دستاویزات نہیں جن پر سپریم کورٹ کی مہر ہو‘ عدالت نے کیس کی سماعت دو اپریل پیر تک ملتوی کردی‘ آئندہ سماعت پر بھی استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء پر جرح کی جائے گی۔ جمعہ کو احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف‘ مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف ایوان فیلڈ ریفرنس کی سماعت فاضل جج محمد بشیر نے کی۔ تیسرے روز بھی نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے استعاثہ کے گواہ واجد ضیا پر جرح کی اس دوران گواہ واجد ضیا نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے تفتیش شروع کرنے سے پہلے سپریم میں دائر درخواستوں کا اور جوابات کا جائزہ لیا‘ شریف خاندان کے جواب میں جیرمی فری مین کا خط موجود تھا،جیری فری مین نے ٹرسٹ ڈیڈ درست ہونے کی تصدیق کی تھی،ہم نے براہ راست جیری فری مین سے رابطہ نہیں کیا تھا۔ یہ بات درست ہے کہ جیری فری مین کو جے آئی ٹی نے متفقہ رائے سے سوال نامہ بھیج دیا گیا تھا۔ اس پر خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا جے آئی ٹی نے سوالنامہ بھیجنے کا فیصلہ اتفاق رائے سے کیا تھا اس پر واجد ضیا نے کہا جیر ی فری مین کو سوالنامہ بھیجنے پر جے آئی ٹی میں اتفاق رائے تھاجیری فری مین سے خط و کتابت جے آئی ٹی نے براہ راست نہیں کی۔خط و کتابت کے لیے برطانیہ میں سولیسٹر کی خدمات حاصل کی گئیںجے آئی ٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ جیری فری مین سے براہ راست خط و کتابت نہیں ہو گایہ بات درست ہے کہ جیری فری مین نے تصدیق کی کہ

حسن نواز نے 2 ٹرسٹ ڈیڈ پر 2 جنوری 2006 کو اس پر دستخط کیے، واجد ضیا نے کہا کہ جیری فری مین اس ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط کے گواہ ہیں، ٹرسٹ ڈیڈ کومبر کمپنی نیلسن اور نیسکول سے متعلق تھی۔ان دونوں ٹرسٹ ڈیڈ کی کاپیاں جیری فری مین کے آفس میں ہیں، اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ کیا آپ نے جیری فری مین کو لکھا کہ تمام دستاویزات اور ثبوتوں کے ساتھ پاکستان آ کر اپنا بیان دے، اس پر واجد ضیا نے کہا جیری فری مین کو پاکستان آنے کا نہیں کہا۔خواجہ حارث نے کہا اب زرا گلف سٹیل مل پر بات کر لیتے ہیں۔
اس پر وکیل خواجہ حارث نے سوال کیا کہ جے آئی ٹی کی تفتیش کے مطابق گلف سٹیل مل دوبئی میں کب قائم ہوئی ۔جس پر واجد ضیا نے کہا کہ ہماری تفتیش، دستاویزات اور کاغذات کی روشنی میں گلف سٹیل مل 1978 میں بنی، جس پر خواجہ حارث نے کہا 1978 کے شیئرز سیل کنٹریکٹ دیکھ لیں کیا آپ نے ان کی تصدیق کرائی، واجد ضیا نے کہا نہیں گلف سٹیل مل کے کنٹریکٹ کی تصدیق نہیں کرائی جس پر خواجہ حارث نے کہا اگر آپ نے تصدیق نہیں کرائی تو کیا آپ اس کنٹریکٹ کے مندرجات کو درست تسلیم کرتے ہیں۔
اس پر سٹار گواہ نے کہا جے آئی ٹی نے گلف سٹیل مل کے کنٹریکٹ کو درست تسلیم کیا، وکیل خواجہ حارث نے کہا 14 اپریل 1980 کو سٹیل مل بنی کیا آپ نے اس کے مالک اور کیا آپ نے سٹیل مل کے معاہدے کے گواہ عبدالوہاب سے رابطہ کیا جس پر واجد ضیا نے کہاہم نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی گواہ عبدالوہاب سے کوئی رابطہ کیاگواہ نمبر 2 محمد اکرم سے رابطہ کیا،لیکن وہ اس پتے پر موجود نہیں تھے، 1980 کے معاہدے کیمطابق 25 فیصد رقم کیش کی صورت میں موصول کی گئی،

1980 کے معاہدے کو پاکستان کے سفارت نے نوٹرائز کیا تھا ، پاکستانی قونصلر منصور حسین نے نوٹرائز کیا تھا۔ خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا آپ نے سفارت خانے کے قونصلر منصور حسین سے رابطہ کیا تھا، جس پر واجد ضیا نے کہا نہیں منصور حسین سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی تھی، رقم ادا کرنے والے عبداللہ سے رقم کی ادائیگی سے متعلق بھی رابطہ نہیں کیا۔خواجہ حارث نے پوچھا کہ 1978 میں 75 فیصد شیئرز کی رقم کتنی تھی، جس پر واجد ضیا نے کہا 75 فیصد شیئرز کی رقم 21 ملین درہم تھی،
اس بات کا علم نہیں کہ گلف سٹیل مل کے خریدار عبداللہ قائد کے بیٹے عبدالرحمان نے سٹیل مل کی خریداری اور رقم کے حوالے سے بیان دیا تھا۔ خواجہ حارث نے کہا جے آئی ٹی کے والیم میں کتنی ایسی دستاویزات ہیں جن پر سپریم کورٹ کی مہر ہے۔جس پر واجد ضیا نے کہا ہمارے پاس کوئی ایسی دستاویزات نہیں جن پر سپریم کورٹ کی مہر ہو،کیا میں جے آئی ٹی کے والیم دیکھ سکتا ہوں۔ اس پر خواجہ حارث نے کہا میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ آپ زیادہ بول رہے ہیں آپ کو اتنا کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔
اس پر واجد ضیا نے کہا میں کچھ اور باتیں شامل کرنا چاہتا ہوں اس پر جج محمد بشیر نے کہا اب آپ اور نہ بولیں۔خواجہ حارث نے واجد ضیا سے سوال کیا کہ سکریپ مشینری دوبئی سے جدہ بھیجنے والا خط آپ نے دیکھا، اس پر واجد ضیا نے کہا جی جے آئی ٹی نے وہ خط دیکھا تھا، جے آئی ٹی کے والیم 3 میں جو خط لگا ہوا ہے اس کے مطابق سکریپ دوبئی نہیں بلکہ شارجہ سے جدہ گیا، اس پر واجد ضیا نے کہا کہ بات درست ہے
کہ سکریپ شارجہ سے جدہ گیا،خواجہ حارث نے سوال کیا کہ خط کے مطابق وہ سکریپ نہیں بلکہ استعمال شدہ مشینری تھی، اس پر واجد ضیا نے کہا یہ درست ہے کہ سکریپ نہیں بلکہ وہ استعمال شدہ مشینری تھی۔ خواجہ حار ث نے کہا جے آئی ٹی نے دوبئی اتھارٹی کو ایم ایل اے بھیجا کہ شارجہ سے جدہ سکریپ بھیجنے کا کوئی ریکارڈ موجود ہے، واجد ضیا نے کہا ایسا کوئی ایم ایل اے نہیں بھیجا گیا۔
یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.