مجھے ن لیگ سے نکالنے میں کس اہم سیاسی شخصیت کا ہاتھ تھا؟چیف جسٹس اپنے حلقے سے کونسلرکاانتخاب لڑیں گے تو کیا ہوگا؟جاوید ہاشمی نے حیرت انگیز دعوے کردیئے

اسلام آباد(آن لائن) بزرگ سیاستدان جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ انہیں مسلم لیگ سے نکالنے میں چوہدری نثار کا ہاتھ تھا ،نثار کو (ن )لیگ سے الگ کیا گیا تو پارٹی کا نقصان ہو گا،چیف جسٹس اپنے حلقے سے انتخابات لڑیں تو کونسلر بھی نہیں بن سکتے ،نثار عدلیہ سے محاز آرائی نہ کرنے کی درست بات کرتے ہیں، عمران خان لیڈر ہیں پر وہ اپنا راستہ کھو چکے ہیں۔ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججوں کی تنخواہیں اگر سامنے آ جائیں تو میڈیا کے ہوش اڑ جائیں گے

تا ہم جہاں تک پنجاب حکومت کی کرپشن کا سوال ہے تو سپریم کورٹ بے شک ان کو پکڑے اگر شہباز شریف نے کسی کو کچھ دیا ہے چاہے وہ ان کے کزنز ہوں یا کوئی اور اگر ناجائز دیا ہے تو ان کا بھی احتساب کریں اور عدالت ان کو بھی پکڑے لیکن میڈیا صرف الزامات نہ لگائے اینکر پرسنز کی بھی تنخواہ لاکھوں میں ہیں ان کا بھی احتساب ہونا چاہئے۔ چوہدری نثار پر تنقید سے متعلق سوال پر جاوید ہاشمی نے کہا کہ میری پوری گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ چوہدری نثار خود اداروں سے ٹکراؤ کی بات کرتے ہیں تا ہم میرا موقف مختلف ہے میں تو منتیں کرتا ہوں کہ خدا را ٹکراؤ سے بچا جائے اور ادارے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہیں ، ہماری فوج کے پاس بندوق ہے ہم ان سے لڑ نہیں سکتے اور ہم ان سے کیوں لڑیں گے ہم تو فوج کے جوتوں پر قربان ہونے والے ہیں ۔انہوں نے کہا ہے کہ چوہدری نثار کا احترام کرتا ہوں اگر مسلم لیگ ن ان کو پارٹی سے الگ بھی کر دے تو نقصان چوہدری نثار کا نہیں مسلم لیگ ن کا ہوگا اور میں سمجھتا ہوں کہ شہباز شریف کے صدر بننے کے بعد میاں صاحب اس معاملہ کو سنبھال لیں گے،شہباز شریف سے چوہدری نثار کے تعلقات اچھے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ چوہدری نثار کی رائے اچھی ہوتی تھی اور انہوں نے کافی پارٹی کو فائدہ بھی پہنچایا ہے چوہدری نثار نے میری باتوں کا جواب دیا تو میں حیران ہو ا، یہ حقیقت ہے کہ چوہدری نثار نے خود کہا ہے کہ

وہ مریم نواز کے ساتھ کام نہیں کریں گے اور ن لیگ چھوڑ دوں گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ مریم نواز بری نہیں ہے بلکہ ہمارے بچے ہیں یہ باتیں ان کو پارٹی میں کرنی چاہیں لیڈر مریم بنے یا کوئی اور بنے مگر میں مشاورت کا قائل ہوں اور میں نے آج تک یہ نہیں کہا کہ فلاں لیڈر ہو گا میں کام نہیں کروں گا چوہدری نثار کو قائد حزب اختلاف جب بنایا گیا تو میں نے اسے بھی تسلیم کیا اور یہاں تک کہا کہ یہ اعلان بھی مجھے کرنے دیں تا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ دونوں کے اختلاف ہیں انہوں نے کہا ہے کہ میری بھی خواہش تھی کہ میں قائدحزب اختلاف بنوں مگر میں چوہدری نثار کے نام پر متفق ہو گیا ۔ انہوں نے کہا ہے کہ

چوہدری نثار کہتے ہیں کہ جس کے پیچھے پڑ جاؤں ان کا قبر تک پیچھا کرتا ہوں مگر پارٹی میں غصہ اتارنا چاہئے عوام میں یہ باتیں نہیں ہونی چاہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ میں نے کبھی نہیں کہا کہ پارٹی چوہدری نثار کو ٹکٹ نہیں دے گی پارٹی لیڈر ٹکٹ کیلئے اپلائی نہیں کرتے بلکہ پارٹیاں انکو خود ٹکٹ فراہم کرتی ہیں میں نے آج تک بھی ٹکٹ کا مطالبہ نہیں کیا مگرمجھے 12 دفعہ ٹکٹ دیا گیا انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ جب پارٹی پر مشکل وقت آتا ہے تو چوہدری نثار پارٹی کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے اور

ماضی میں بھی انہوں نے مشکل وقت میں ساتھ نہیں دیا ۔ایک سوال پرانہوں نے کہا ہے کہ جب میں دوبارہ پارٹی میں آ رہا تھا تو میری نواز شریف سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا تھا کہ میاں صاحب مجھے کیوں نکالا ، میں نے ن لیگ نہیں چھوڑی مجھے نکالا گیا اور اس میں چوہدری نثار بھی شامل تھے انہوں نے کہا ہے کہ پارٹی میں آنے کے بعد کبھی وزیراعظم یا کوئی عہدہ دینے کا مطالبہ نہیں کیا اور نہ ہی میں شہباز شریف کی جگہ لینا چاہتا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ

ہماری عدلیہ آزاد نہیں ہے اور یہ جج بھی کہتے ہیں اور یہاں تک عمران خان نے خود کہا تھا کہ پانامہ کیس کا فیصلہ کمزور تھا چیف جسٹس آئین کے مطابق ادارے کو چلائیں اور عدلیہ کا مقام و عزت برقرار رکھیں۔ عدلیہ نے جو فیصلے کیے ہیں وہ درست نہیں کیے ماضی میں بھٹو کو پھانسی لگا دی گئی وزار اعظم کو نکالا ، اور بقول عمران کے کمزور فیصلے پر نواز شریف کو نکا لا تا ہم چوہدری نثار کی عدلیہ سے ٹکراؤ نہ کرنے کی بات ٹھیک ہے اور ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہئے انہوں نے کہا ہے کہ اگر انتخابات اس بار ملتوی ہوئے

تو 40 سال پھر آمریت ہو گی، نواز شریف اور آصف زرداری کو اتفاق کرنا ہو گا اور جمہوریت کے تسلسل کو جاری رکھنے کیلئے بات چیت کرنی ہو گی انہوں نے کہا ہے کہ آج کے جج ولی اللہ نہیں،کرپشن فوجی اداروں میں بھی کرپشن ہے اور مشرف نے ہمیں بلا کر پوچھا تو ہم نے ان کو بھی یہی جواب دیا تھا اور سب سے زیادہ بیوروکریٹ کرپٹ ہیں اس کے بعد سیاستدان ہیں پرویز مشرف کے کسی ایک بھی ساتھی پر مقدمہ نہیں بنا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان کو آج بھی لیڈر مانتا ہوں مگر دھرنے کے بعد سے انکے اقدامات سے اختلاف کیا اور ان کی مخالفت کی اور میں نے عمران خان کو بچایا تا کہ وہ آمریت کا حصہ نہ بننے ۔۔

یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.