سردی گئی ،گرمیاں شروع ہوگئیں ،کراچی میں درجہ حرارت انتہا کو چھونے لگا،پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں صورتحال کیا ہوگی؟محکمہ موسمیات نے خبر دار کردیا

کراچی(سی پی پی) شہر قائد میں بھی گرمی کی شدت برقرار ہے اور درجہ حرارت 38 سے 40 ڈگری تک رہنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں سمندری ہوائیں نہیں چل رہیں، جس کی وجہ سے گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی موسم خشک اور گرم رہے گا اور درجہ حرارت 38 سے 40 ڈگری تک بڑھنے کا امکان ہے۔دوسری جانب آئندہ چند دنوں میں گرمی کیشدت میں مزید اضافے کی پیشگوئی بھی کی گئی ہے۔ ڈائریکٹر ہیلتھ سندھ ڈاکٹر طاہر عزیز نے ہدایات جاری کی ہیں کہ

اسپتالوں میں ضروری ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔دریں اثنا شہریوں کو سر ڈھانپنے اور زیادہ سے زیادہ پانی پینے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔کراچی سمیت نواب شاہ، سکھر، دادو، حیدرآباد، تھرپارکر، بدین، پڈعیدن، لاڑکانہ سمیت سندھ کے کئی شہروں میں بھی موسم شدید گرم ہے۔دوسری جانب پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے کئی شہروں میں بھی گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔اگر ہوا نہ ہو تو شہری لو لگنے، ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ہیٹ اسٹروک اس وقت ہوتا ہے جب انسانی جسم اندرونی درجہ حرارت کو کم رکھنے کے لیے تیزی سے پسینہ خارج کرتا ہے تاکہ جسم کو باہر سے ٹھنڈک پہنچائی جاسکے۔ لیکن پسینے کے اخراج کی صورت میں پیدا ہونے والی پانی کی اندرونی کمی کو فورا پورا نہ کیا جائے تو پانی اور نمکیات کی کمی کے باعث جسم کا قدرتی کولنگ سسٹم ناکارہ ہوجاتا ہے اور انسان تھکاوٹ، سرسام یا لو لگ جانے جیسے جان لیوا امراض کا شکار ہوسکتا ہے۔ ان مہلک بیماریوں سے بچنے کیلیے طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ بلا ضرورت سائے دار جگہ سے مت نکلیں۔ اگر مجبوری میں باہر نکلنا پڑے تو احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔باہر نکلتے وقت سر اور کندھے پر گیلا کپڑا رکھیں اور ہلکے رنگوں والے کپٹرے پہنیں۔ جہاں تک ممکن ہو رش سے دور اور سایہ دار مقام پر رہیں۔ سورج سے بچنے کے لیے چھتری کا استعمال ضرور کریں۔ پانی ہر وقت اپنے ساتھ رکھیں اور وقفے وقفے سے پیتے رہیں اور ساتھ ہی اگر او آر ایس ملا لیں تو زیادہ بہتر ہوگا تاکہ جسم میں نمکیات اور پانی کی کمی با آسانی پوری ہو جائے۔ کھانے میں گوشت کے بجائے تازہ سبزیوں اور دالوں کا استعمال کریںتا کہ گرم غذا سے جسم کے اندرونی درجہ حرارت کو مزید گرم ہونے سے بچایا جا سکے۔ شدید گرمی میں 4 سال سے کم عمر بچے اور 60 سال سے زائد افراد کو خصوصی احتیاط کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد، زیابطیس یا شوگر، امراض قلب اور ہائپر ٹینشن یا فشار خون کی زیادتی کے مریض شدید گرمی میں باہر نا نکلیں۔ وہ افراد جو دھوپ میں کام کرتے ہیں انہیں بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور انہیں مسلسل اپنے جسم پر پانی ڈالتے رہنا چاہیے۔
یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.