’پاکستان کا وہ نیوز چینل جو غیرملکی فنڈنگ سے چل رہاہے‘ عدالت میں ایسا انکشاف کہ ہرپاکستانی حیران پریشان رہ جائےگا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )ایگزیکٹ کے چینل غیر ملکی فنڈنگ سے چلائے جا رہے ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل سلمان الدین کا سندھ ہائیکورٹ میں بیان۔ تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل سلمان الدین نے سندھ ہائیکورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ ایگزیکٹ کے چینل غیر ملکی فنڈنگ سے چلایاجارہاہے

اور قانون کے مطابق غیرملکی فنڈنگ سے چلنے والے چینل کو براڈکاسٹنگ کی اجازت نہیں دی جاسکتیاور نیوز چینل کے ماسٹر مائنڈ شعیب شیخ کے خلاف منی لانڈرنگ کیس چل رہا ہے جعلی ڈگریاں فروخت کرنے کا مقدمہ بھی زیر سماعت ہے ،ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ اور ان کے بعض دیگر ملازمین انگریزوں کا لہجہ اپنا کر بذریعہ فون انگریزی بول کر لوگوں کو جعلی ڈگریاں فروخت کرتے ہیں، شعیب شیخ نے اسلام آباد میں جج کو 50 لاکھ روپے رشوت دی اوراس کے عوض بری ہوئے،ایگزیکٹ اور اس کے چینلز سے متعلق سارا ریکارڈ پیش کرکے ان کی حقیقت بتاسکتے ہیں۔ پیر کو سندھ ہائی کورٹ کےجسٹس محمد شفیع صدیقی کی سربراہی میں سنگل بینچ نے ایگزیکٹ کے چینل کےلیے لائسنس منسوخی سے متعلق کیس کی سماعت کی ،اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل سلمان طالب الدین پیش ہوئے جبکہ پیمراکے وکیل غیر حاضر رہے، شعیب شیخ کے نیوز چینل کی جانب سے انور منصور خان ایڈووکیٹ نےاپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پیمرا کے وکیل کے پاس سیکورٹی کلیئرنس واپس لینے کا لیٹر ہوتا تو مارچ2015 میں عدالت میں پیش کیا جاتا،اس موقع پر انور منصور خان نے سکیورٹی کلیئرنس سے متعلق بعض فیصلوں کی نقول بطور مثال بھی پیش کیں،انور منصور خان نےاپنے دلائل میں مزید کہاکہ 10 اکتوبر 2016 کونیوز چینل کا لائسنس معطل کردیاتھا۔روزنامہ جنگ کے مطابق انہوں نے کہا اگر متعلقہ منسٹری کوکوئی اور لیٹر موصول ہوتا تو عدالت میں بیان نہ دیا جاتا،

ایف آئی اے نے مقدمات کے باوجود سکیورٹی کلیئرنس پر اعتراض نہیں کیا ،2013 میں سکیورٹی کلیئرنس کے لیے رجوع کیا گیا تھا جبکہ ایف آئی اے میں مقدمات بعد میں درج ہوئے۔اس دوران بنچ کے سربراہ نے ریمارکس میں کہاکہ سیکورٹی کلیئرنس کا معاملہ انتہائی حساس ہے ، جسٹس محمد شفیع صدیقی نے حیرت کا اظہار کرتےہوئےکہا کہ ایگزیکٹ کے چینل کے پاس سیکورٹی کلیئرنس ہی نہیںاور ٹی وی چینل کی ٹرانسمیشن پوری دنیا میں چل رہی ہےجس پر انورمنصورخان نے کہاکہ مدنی ٹی وی،
کیو ٹی وی سمیت اور بھی ایسے چینلز ہیں جو بغیر کلیئرنس اپنی ٹرانسمیشن چلا رہے ہیں، انہوں نے کہاکہ کونسل آف کمپلینٹ نے موقف سنے بغیر فیصلہ کیا،جسٹس محمد شفیع صدیقی نے ریمارکس میں کہاکہ پیمرا کو تو منسٹری کے لیٹر پر عمل کرنا تھا تاہم انورمنصور خان نے کہاکہ پیمرا عمل درآمدکرنے والا ادارہ ضرور ہے لیکن اس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس محمد شفیع صدیقی نے کہاکہ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جس طرح بعض چینلز کو بغیر این او سی لائسنس جاری کیے گئے.
اس طرح آپ کے چینل کو لائسنس نہیں دیا جارہا؟جس پر انور منصورخان ایڈووکیٹ نے کہاکہ جی ہاں، جب باقی چینلز کو لائسنس دیاجاسکتا ہے تومیرے موکلکو بھی دیا جائے، لائسنس کے لیے پانچ لاکھ روپے مانگے تھے وہ بھی جمع کرادیئے ہیں،ڈکلیئر شدہ شیئرز کی تفصیل بھی جمع کراچکے ہیں یہ سارا عمل 2013 میں کیا گیا ہے جب2013 میں نواز شریف کی حکومت آئی تھی اور یہی حکومت ہمارے خلاف ہے مینجمنٹ کی تبدیلی کا عمل بھی

مکمل کیا گیا اس وقت بھی سکیورٹی کلیئرنس پر اعتراض نہیں اٹھایا گیا ۔اس دوران فاضل عدالت میں موجودایڈیشنل اٹارنی جنرل اور انور منصور کے درمیان نوک جھوک کا تبادلہ بھی جاری رہا، جسٹس محمد شفیع صدیقی نےایڈیشنل اٹارنی جنرل کو عدالت میں ریکارڈ پیش کرنے کیلئے اجازت لینے کا حکم جاری کیا ۔ عدالت نے کیس کی سماعت 13 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے پیمرا کے وکیل کو طلب کرلیا۔
یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.