کیا چوہدری نثار کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے؟نوازشریف نے بالاخر دوٹوک اعلان کرہی دیا

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد ٗ سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ چیف جسٹس کے انٹرویو اور ڈاکٹرائن سے متعلق تبصرے دیکھ رہا ہوں اور ان کے خیال میں کوئی چیز مسائل پیدا کر رہی ہے تو اس کا سدباب ہونا چاہیے ٗچیف جسٹس کو انتخابات میں ایک گھنٹے کی تاخیر کی بھی بات نہیں کرنی چاہیے ٗکوئی انتخابی عمل میں رخنہ نہ ڈالے، ووٹ امپائر کی انگلی سے نہیں ٗلوگوں کے انگھوٹھوں سے ملیں گے ٗسب جانتے ہیں سگنل لینے والا بندہ نہیں ٗ میرے خلاف یلغار کی بڑی وجہ

آئین و قانون کے ساتھ کھڑا ہونا ہے تاہم اس پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ٗمیمو کیس سے دور رہنا چاہیے تھا ٗوزیراعظم ایک سفیر نامزد کرتا ہے اور آج اس کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی باتیں ہو رہی ہیں ٗمارشل لاء ادوار کے قوانین ایک ہی بار ختم کر دینے چاہئیں، نیب سے بہتر قانون لایا جا سکتا ہے ٗواجد ضیا گھنٹوں پرویز مشرف کے دروازے کے باہر بیٹھے رہتے تھے ٗمشرف بیماری کا بہانہ کرکے ہسپتال میں چھپ گیا ٗ میں اپنی بیٹی کے ساتھ عدالت میں موجود ہوں اور الزامات کا سامنا کر رہا ہوں ٗسیاستدانوں اور پرویز مشرف جیسے لوگوں میں فرق سمجھنا چاہیے۔ منگل کو احتساب عدالت کے باہر میڈیا نمائندوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ موجودہ اسمبلی کی مدت میں دو ماہ رہ گئے ہیں اور چیف جسٹس کے انٹرویو اور ڈاکٹرائن سے متعلق تبصرے دیکھ رہا ہوں۔نواز شریف نے کہا کہ چیف جسٹس کو انتخابات میں ایک گھنٹے کی تاخیر کی بھی بات نہیں کرنی چاہیے، اگر ان کے خیال میں کوئی چیز مسائل پیدا کر رہی ہے تو اس کا سدباب ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ توقع کرنی چاہئے کہ کوئی انتخابی عمل میں رخنہ نہ ڈالے، ووٹ امپائر کی انگلی سے نہیں لوگوں کے انگھوٹھوں سے ملیں گے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ جمہوریت کیلئے قیمت ادا کی اور ادا کر بھی رہا ہوں، سب جانتے ہیں میں سگنل لینے والا بندہ نہیں، میرے خلاف یلغار کی بڑی وجہ آئین و قانون کے ساتھ کھڑا ہونا ہے
تاہم اس پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ میں پیچھے نہیں ہٹوں گا، میں امپائر کی انگلی کی طرف نہیں دیکھوں گا۔نواز شریف نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ جب آصف زرداری پر میمو کیس بنایا گیا تو مجھے اس سے دور رہنا چاہیے تھا اور میرا میمو کیس سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے تھا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ کیس بنانے میں کون سی دیر لگتی ہے؟ جواز ہو یا نہیں، کیس بن جاتے ہیں اور میرے کیس میں پراسیکیوشن اور گواہوں سمیت کسی کو معلوم نہیں کہ کرپشن کب ہوئی،

وزیراعظم ایک سفیر نامزد کرتا ہے اور آج اس کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔نواز شریف نے کہاکہ مخصوص نتائج حاصل کرنے کیلئے پرویز مشرف نے نیب بنایا جسے 2002 کے انتخابات سے قبل بری طرح استعمال کیا گیا اور خدشہ ہے کہ نیب کو اسی طرح اب پھر ہمارے خلاف استعمال کیا جائیگا ٗ اس بات کا احساس آج تجربات کے بعد ہو رہا ہے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ فیصلے چیف جسٹس کے ہاتھ میں ہیں، کیس بنانے میں کون سی دیر لگتی ہے۔نواز شریف نے کہاکہ خدشہ ہے
نیب کو اب پھر اسی طرح ہمارے خلاف استعمال کیا جائے گا، نیب جیسے قانون کو ہوا میں اڑا دینا اور ملیا میٹ کردینا چاہیے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ مارشل لاء ادوار کے قوانین ایک ہی بار ختم کر دینے چاہئیں، نیب سے بہتر قانون لایا جا سکتا ہے، ہماری ایک آئیڈیالوجی اور سوچ ہے جس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔نواز شریف نے کہا کہ واجد ضیا گھنٹوں پرویز مشرف کے دروازے کے باہر بیٹھے رہتے تھے، کمرہ عدالت میں موجود واجد ضیا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ان سے پوچھیں میں نے کیا
کرپشن کی ہے’؟۔صحافی کے سوال کیا کہ پرویز مشرف کی بیرون ملک روانگی کیلئے راحیل شریف نے آپ سے کہا تھا پر نواز شریف نے کہا کہ فی الحال ان باتوں کا وقت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو سیاستدانوں اور پرویز مشرف جیسے لوگوں میں فرق سمجھنا چاہیے، پرویز مشرف بیماری کا بہانہ کرکے ہسپتال میں چھپ گیا اور میں اپنی بیٹی کے ساتھ عدالت میں موجود ہوں اور الزامات کا سامنا کر رہا ہوں۔نواز شریف نے کہا کہ پرویز مشرف مکے دکھا تا تھا جیسے نعوذ با ا للہ خدا ہو اور کہتا تھا کہ

نواز شریف اور بے نظیر کبھی واپس نہیں آئیں گے اور آج وہ وطن واپسی سے متعلق جھوٹ بولتا ہے۔صحافی نے سوال کیا کہ کیا چوہدری نثار کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے جس پر نواز شریف نے کہا کہ آپ مشرق کی بات کرتے ہوئے مغرب نکل جاتے ہیں۔ نوازشر یف نے کہا کہ ابھی تک تو ہماری پارٹی متحد ہے اور انشاء اللہ متحد رہے گی۔ایک سوال پر نوازشریف نے کہاکہ اداروں کے ساتھ بیٹھنے والی بات جمہوریت اور قانون کیلئے کی تھی ٗ آئین اور قانون کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ نگران وزیراعظم کے حوالے سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے بات ہوئی ہے ٗچاہتے ہیں کہ سیاست دان مل بیٹھ کر نگران وزیراعظم کا فیصلہ کریں ٗاب بھی وقت ہے ٗپارلیمنٹ مل کر اہم معاملات کو طے کرے۔
یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.