افسران کو مدت ملازمت میں توسیع چاہیے تو یہ کام کرنا ہوگا۔۔۔(ن) لیگی حکومت نے شرمناک شرط رکھ دی

لاہور (ویب ڈیسک)معروف کالم نگار مظہر برلاس کا اپنے ایک کالم ’ افسران کیا کریں؟‘ میں کہنا تھا کہ قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح نے افسران سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ،

افسران سیاسی دباؤ قبول نہ کریں بلکہ وہی کام کریں جو قانون کہتا ہے اور انہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ اپنے فرائض عوامی فلاح و ملکی بہتری کے لئے انجام دیں۔اسے آپ اتفاق سمجھیں کہ پاکستان میں پہلے چالیس برس افسران نے ایسا ہی کیا پھر ان پر سیاسی دبائو پڑنا شروع ہوا اور پھر افسران سیاسی دبائو کا حصہ بن گئے اور آج یہ صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ بیورو کریسی میں ایک ن گروپ ہے اور جس افسر کا ’’ن‘‘ گروپ سے تعلق ہے ۔ اسے اچھی پوسٹنگ مل جاتی ہے اور جس بے چارے کا تعلق صرف بیورو کریسی سے ہو۔ اسے نہ تو اچھی پوسٹنگ ملتی ہے اور نہ ہی کوئی ڈھنگ کی جگہ ملتی ہے۔ جب تک وہ اعلیٰ افسران کی قیادت میں طاقتور گروپ جوائن نہیں کرلیتا۔ اس وقت تک پوسٹنگ تو دور کی بات پروموشن بھی نہیں ہو سکتی۔ ایسی صورت حال میں یہ افسران کیا کریں؟ اورسیاستدان اپنے جلسوں کی ذمہ داریاں بھی ان پر ڈال دیتے ہیں۔

جبکہ دوسری جانب نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی راﺅف کلاسرا نے کہا کہ شہباز شریف اس وقت لندن میں موجود ہیں،ان کے لندن میں موجود ہونے کی تین وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ ہے کہ وہ اپنا میڈیکل چیک اپ کروانے گئے ہیں، دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کی بھابھی کی طبیعت خراب ہے اور شہباز شریف ان کی عیادت کرنے گئے ہیں اور تیسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ شہباز شریف وہاں ملاقاتیں کر رہے ہیں اور آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے کوئی راستے کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اپنے پروگرام میں رؤوف کلاسرا نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے دورہ امریکہ سے متعلق بھی بات کی ، نواز لیگ امریکیوں کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ دیکھا پاکستان دوبارہ مولویوں کے ہاتھ آ رہا ہے، امریکہ کو کہا جا رہا ہےکہ ایک طرف آپ چاہتے ہیں کہ پاکستان آرمی اور سب کو ساتھ ملا کر چیزیں ٹھیک کی جائیں تو پاکستان ایم ایم اے بن چکی ہے، اگر آپ نے ہمارے اوپر ہاتھ نہ رکھا تو آپ جو چاہتے ہیں وہ نہیں ہو سکے گا، مشرف نے بھی ان کو یہی کہا تھا کہ ملک میں سارے سنی شیعہ اکٹھے ہو جائیں گے ، اگر ان کو کنٹرول کرنا ہے تو آپ مجھے ملک کا صدر بنا دیں۔
یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.