’’ قاتل اعلیٰ ‘‘ شہباز شریف جب جنت البقیع پہنچے تو انکے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا؟ ایسا دعویٰ منظر عام پر آگیا کہ ہر کوئی حیران

’’ قاتل اعلیٰ ‘‘ شہباز شریف جب جنت البقیع پہنچے تو انکے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا؟ ایسا دعویٰ منظر عام پر آگیا کہ ہر کوئی حیران

لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ روز شہباز شریف جنت البقیع گئے تو لوگوں نے ان کے خلاف اتنے نعرے لگائے کہ وہ جنت البقیع کے دروازے سے ہی واپس آگئے ۔آل پارٹیز کانفرنس میں خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے شہیدوں کے خون کی وجہ سے شریف برداران کی دنیا بھر میں رسوائی ہوئی،یہ دونوں کعبہ کے صحن اور مسجد نبوی میں بھی نہیں جا سکتے ۔ طاہر القادری نے دعویٰ کرتے ہوئے بتا یا کہ کل ایک شخص نے مدینہ سے ٹیلی فون کر کے بتا یا کہ نماز جمعہ کے بعد شام کو جنت البقیع جانے کے لیے شہباز شریف دو بار نکلے تو لوگوں نے چور،چور اور قاتل ،قاتل اعلیٰ کے نعرے لگائے. انہوں نے بتا یا کہ اس دوران سعودی پولیس کے اہلکار ہنس رہے تھے اورکسی نے نعرے لگانے والوں کو نہیں روکا ،حتی کہ جب شہباز شریف جنت البقیع کے دروازے پر پہنچے تو اہلکاروں نے شیڈول سے ہٹ کر دروازہ کھولا مگر سیدہ کائنات فاطمة الزہرہ نے شہباز شریف کو اندر نہیں آنے دیا ، پولیس والے ساتھ تھے دروازہ کھلا ہوئے تھا لیکن شہباز شریف وہاں سے پلٹ کر واپس چلے گئے لوگوں نے اتنے نعرے لگائے ۔ اپنے خطاب میں طاہر القادری کا کہنا تھا کہ آج کے قومی ایجنڈے میں 2 اہم چیزیں شامل ہیں،

سانحہ ماڈل ٹاؤن اور مجھے کیوں نکالا۔ یہ دونوں چیزیں پاکستان کے حال اور مستقبل سے جڑی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ میں نے جماعتوں کو متحد کیا ہے۔ تمام جماعتیں اظہار رائے رکھتی ہیں، سانحہ ماڈل ٹاؤن پر سب متفق ہیں۔ ’تمام جماعتوں کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقدس خون اور انسانیت نے جمع کیا ہے‘۔طاہر القادری کا کہنا تھا کہ شریف برادران نے ماضی میں پیسوں کے ذریعے لوگوں کو خریدا۔ ’نواز شریف آج نظریاتی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، نواز شریف کو ان کا ماضی دکھانا چاہتا ہوں‘۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے ماضی میں غیر جمہوری سرپرستوں کے ذریعے الیکشن لڑا۔ انہوں نے ماضی میں رہنماؤں کو پیسوں کے ذریعے خریدا۔ نواز شریف نے سیاست میں لوگوں کو خریدنے کا کلچر ڈالا۔طاہر القادری نے کہا کہ نواز شریف کا نظریہ یہ ہے کہ منتخب وزیر اعظم کا بیٹھنا گوارا نہ تھا۔ انہوں نے 3،3 لاکھ اقلیتی رہنماؤں اور 6،6 لاکھ دیگر رہنماؤں کی بولی لگائی۔ ’آپ خود کو کیسے جمہوری کہتے ہیں حکومتیں گرانے کے لیے پیسے لیے۔ چھانگا مانگا میں رہنماؤں کو بلایا گیا اور انہیں قید رکھا یہ آپ کی جمہوریت ہے۔ آپ وہ ہیں جنہوں نے ماضی میں سپریم کورٹ پر حملہ

کیا‘۔طاہر القادری کا کہنا تھا کہ نواز شریف آپ کے کرتوتوں نے آپ کو نکالا۔ ’میں نے پاکستان آنے کا اعلان ہی کیا تھا کہ آپ نے ماڈل ٹاؤن پر حملہ کروا دیا۔ ماڈل ٹاؤن میں نہتے معصوم شہریوں کا قتل عام کیا گیا۔ اس کے بعد نجفی کمیشن بنا جس کی رپورٹ کے لیے ہم نے قانونی جنگ لڑی۔ نجفی کمیشن نے وزیر اعلیٰ پنجاب، رانا ثنا اللہ اور دیگر کو ذمہ دار ٹہرایا، صرف کمیشن کی رپورٹ حاصل کرنے کے لیے ہم نے 3 سال جنگ لڑی‘۔؎انہوں نے کہا کہ کل تک استعفے نہ دیے گئے تو معاملہ اے پی سی کے سپرد ہوگا۔ ’جب تک آپ بیٹھے ہیں ہمیں انصاف کی امید نہیں ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انصاف کا معاملہ اب قومی قیادت نے لے لیا ہے۔ احتجاج، دھرنا اور کچھ بھی قانون اور آئین کے دائرے میں ہوسکتا ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ختم نبوت کے معاملے پر آپ نے لوگوں کے ایمان پر حملہ کیا۔ قوم اب فیصلہ کرے گی سلطنت شریفیہ چلے گی یا پاکستان چلے گا۔کانفرنس میں سانحہ ماڈل ٹاؤن متاثرین کو انصاف دلوانے کے لیے لائحہ عمل کا اعلان ہوگا جبکہ کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.