آپ کی حکومت تو کیا اس کا باپ بھی یہ کام نہیں کر سکتا ۔۔۔۔بھارتی صحافی کے سوال پر پرویز مشرف کے جواب نے پورے بھارت میں ہنگامہ کھڑا کر دیا

آپ کی حکومت تو کیا اس کا باپ بھی یہ کام نہیں کر سکتا ۔۔۔۔بھارتی صحافی کے سوال پر پرویز مشرف کے جواب نے پورے بھارت میں ہنگامہ کھڑا کر دیا

لاہور (شیر سلطان ملک ) چند روز قبل بھارت کے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے بھارت کے پروپیگنڈے اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے ڈرامے کا پول کھول دیا ۔تفصیلات کے مطابق بھارتی صحافی نے لائیو پروگرام میں پرویز مشرف سے سوال کیا کہ

کہ بھارت سرکار انٹرنیشنل میڈیا کو رپورٹس دکھا کر یہ بات کہہ رہی ہے کہ پاکستان کی فوج نے بھارتی فوج ایک جوان کو ہلاک کیا اور تمام اخلاقیات کو پامال کرتے ہوئے اسکی لاش کی بے حرمتی کی اسکا گلا کاٹا اوراسکی آنکھیں تک نکال دی گئیں ۔ کیا آپ اب بھی کہیں گے کہ یہ جھوٹ ہے اور بھارت کا پاک فوج پر ایک الزام ہے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے اس سوال کے جواب میں کہا آپ بھارت سرکار کی رپورٹس کی بات کرتے ہیں مجھے ان رپورٹس کی حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کیونکہ میں پاک فوج کا حصہ رہا ہوں مجھے سب پتہ ہے یہ رپورٹس کس طرح بنتی ہیں اور کہاں کہاں سے ہو کر حکومت کے پاس پہنچتی ہیں ۔ لائن آف کنٹرول پر حکومت یا اسکے کارندوں کا کیا کام ، حکومت تو کیا حکمرانوں کے ابا جان کا بھی لائن آف کنٹرول پر کوئی کام نہیں ہوتا اور نہ وہ وہاں جا سکتے ہیں انہیں کیا معلوم وہاں فوجوں کے درمیان کیا ہوتا ہے کس طرح کے حالات پیش آتے ہیں وہاں دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیاں جو کارروائی ہوتی ہے اسکی رپورٹ بریگیڈ بٹالین سے بریگیڈ پھر ڈویژن اور کور سے ہوتی ہوئی کسی سول ادارے یا حکومت کے پاس پہنچتی ہے ۔

آپ خدا کا خوف کریں اور غلط فہمیاں پیدا نہ کریں ۔ ایسا بالکل نہیں ہوا ہو گا میں اس الزام کو جھوٹ ہونے کی وجہ سے بلکل مسترد کرتا ہوں ۔ یہ بھارت سرکار کی جانب سے پاک فوج کو بدنام کرنے کی ایک مذموم سازش ہے ۔ پروگرام کے میزبان نے پھر سوال کیا جنرل صاحب آپ جب پاک فوج کے چیف تھے تب بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا جس میں پاکستان کے فوجیوں نے ایک بھارتی جوان کا گلہ کاٹ کر اسکی آںکھیں بھی نکال دی تھیں اور اسکی لاش واپس بھجوا دی تھی ۔ کیا آپ اسے بھی الزام کہتے ہیں ، پرویز مشرف نے جواباً کہا میں اسے تب بھی جھوٹ اور الزام کہتا تھا اور اب بھی آپ اور آپ کی قوم کے سامنے صاف صاف کہہ رہا ہوں کہ یہ پاک فوج کو بدنام کرنے کے لیے ڈراما کیا جاتا ہے ، حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا جسکی وجہ یہ ہے کہ پاک فوج ایک ڈسپلن فورس کا نام ہے یہ کوئی قبائلی جنگجوؤں کا گروہ نہیں اور سب سے بڑھ کر ہم اسلام کے ماننے والے ہیں اور ہمارے مذہب میں لاشوں کی بے حرمتی کو سخت گناہ قرار دیا گیا ہے ۔ آپ خدارا ایسی باتیں پھیلانا بند کریں یہ سب کچھ آپ کی فوج سے متوقع ہے مگر پاک فوج ایسا ہرگز نہیں کر سکتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.