imran

شریف برادران کو سعودی عرب یا ٹرمپ کوئی نہیں بچا سکتا،عمران خان کا شریف برادران کیخلاف نئے شواہد کے ساتھ عدالت جانے کا فیصلہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ حدیبیہ کیس میں نئے شواہد لے کر عدالت جائیں گے۔ شہباز شریف سعودی عرب جا کر گھٹنے پکڑیں گے کہ ہمیں بچا لو اب سعودی عرب ہو یا ٹرمپ انہیں کوئی نہیں بچا سکتا۔ شریف برادران جاہلوں اور ان پڑھوں کی طرح باتیں کر کے لوگوں کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ لوگ بھیڑ بکریاں نہیں کہ ان کی باتوں میں آ جائیں گے۔ نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویومیں عمران خان نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن 14انسانی جانوں کے قتل عام کا معاملہ
ہے۔ پاکستانی عوام تحریک آل پارٹیز کانفرنس کے بعد لائحہ عمل طے کرے گی۔ ہم سیاسی نہیں انسانیت کے معاملے پر طاہر القادری کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام ادارے شریف کے کنٹرول میں ہیں زرداری کے ساتھ کنٹینر پر ہاتھ ہلانے والی نوبت نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس میں نئے شواہد آ گئے ہیں۔ 4یا 5جنوری تک حدیبیہ پیپر ملز کیس دوبارہ عدالت میں لے کر جائیں گے۔ نئے شواہد جے آئی ٹی رپورٹس میں سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2013ء کے انتخابات سے قبل کہا تھا الیکشن بہت بڑا فراڈ ہو گا۔ انہوں نے ایک بریگیڈیئر کے ساتھ مل کر دھاندلی کی۔ پہلے ہی بندر بانٹ ہو چکی تھی کراچی میں ایم کیو ایم سندھ میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں (ن) لیگ 2013ء میں تمام سیاسی جماعتوں نے کہا دھاندلی ہوئی ہے۔ اس وقت تحریک انصاف نے مکمل تیاری کر لی ہے ۔ ہم انہیں دھاندلی نہیں کرنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف سعودی عرب گئے ہیں یہ وہاں جا کر گھٹنے پکڑیں گے۔ خدا کے واسطے ہمیں بچا لو مگر اب سعودی عرب ہو یا ٹرمپ کوئی بھی شریف برادران کو نہیں بچا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ 6ماہ میں 54ارب روپے کیپٹن صفدر کے ذریعے تقسیم کئے گئے اس وقت ملک میں کوئی گورننس نہیں ہے۔ ملک میں بدحالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ اور پنجاب میٹروبس منصوبے میں بہت فرق ہے۔ملتان میں میٹرو بس نظر ہی نہیں آتی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخواہ میں غربت میں نصف کمی ہو چکی ہے ۔ خیبر پختونخوا جیسی پولیس پورے ملک میں نہیں ہے۔ ہم نے آلودگی کے خاتمے کے لئے ایک ارب درخت لگائے۔انہوں نے کہا کہ ایک پارٹی قوم کے ٹیکس کے پیسے کو کس طرح تقسیم کر رہی ہے۔ اب لوگوں میں شعور آ چکا ہے اب لوگ جانتے ہیں کون غلط ہے اور کون صحیح ہے۔ شریف برادران پر منی لانڈرنگ ٹیکس چوری، جعلی کاغذات جمع کرانے کے الزامات ہیں۔ جہانگیر ترین پر یہ الزامات نہیں تھے۔ان کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شریف برادران عدالت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان پر کہیں جرم ثابت نہ ہو جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سپریم کورٹ دباؤ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ بھیڑ بکریاں نہیں کہ جب چاہیں۔ یہ انہیں پاگل بنا لیں گے۔ یہ لوگوں کو بے وقوف سمجھتے ہیں ۔ یہ جاہلوں اور ان پڑھوں کی طرح باتیں کر رہے ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ سپریم کورٹ میں 300ارب کا کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) میں میرٹ نہیں انہیں شریف خاندان کے علاوہ کوئی نہیں ملتا ہمارے پاس جہانگیر ترین کے بیٹے کے علاوہ کئی بہتر امیدوار نہیں ۔نواز شریف اور مریم نواز روز سپریم کورٹ پر حملے کر رہے ہیں۔ کوئی اور ملک ہوتا تو انہیں جیل میں ڈال دیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام سے ظلم ہو رہا ہے اس معاملے پر فضل الرحمن کے سوا سب متفق ہیں۔ اکیلے فضل الرحمن نے نواز شریف کو روکا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ بولنے کی شریف برادران کو ٹریننگ دی ہوئی ہے۔ عمران خان کے دھرنے سے سی پیک یا ترقی نہیں رکی۔ شہباز شریف معصوم شکل بنا کر 10سال سے پنجاب میں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا کام حکومت سے جواب لینا ہوتا ہے۔ یہ کونسی جمہوریت ہے کہ حکومت منہ بند کروانے کے لئے انتقامی کارروائی کرتی ہے اور مخالفین پر مقدمات بنواتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پختونخواہ سے لوگ اسلام آباد آتے ہیں۔ میں سیاستدان ہوں میرا کام لوگوں کو مطمئن کرنا ہے۔ میں ان کے وزیر کو بلاتا ہوں اور لوگوں کو مطمئن کرتا ہوں۔ کسی پر لاٹھیاں نہیں برسائی جاتیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج بار بار کہتی ہے ہم آئین اور جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ نواز شریف کہتے ہیں جمہوریت کو خطرہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.