کچھ لمحوں کی خامشی اور پھر۔۔۔۔ میجر جنرل آصف غفور نے خواجہ سعد رفیق کےخواجہ آصف کے حوالے سے ایسی بات کہہ دی کہ (ن) لیگیے دنگ رہ گئے

کچھ لمحوں کی خامشی اور پھر۔۔۔۔ میجر جنرل آصف غفور نے خواجہ سعد رفیق کےخواجہ آصف کے حوالے سے ایسی بات کہہ دی کہ (ن) لیگیے دنگ رہ گئے

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک ) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے خواجہ سعد رفیق کے بیان کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئےکہا ہے کہ پاک فوج ایک ڈسپلن والا ادارہ ہے جس کے جوان آرمی چیف کے کہنے پر ہی قربانیاں دے رہے ہیں۔پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ سینیٹ کو آرمی چیف کی بریفنگ کے بعد خواجہ سعد رفیق نے کہا تھا کہ آرمی چیف نے جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہونے کا کہا ہے ، خواجہ سعد رفیق نے یہ بھی کہا کہ آرمی چیف کو چاہیے کہ وہ ان لوگوں کی طرف بھی توجہ دیں جو ان کی بات نہیں سنتے۔ صحافی نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے خواجہ سعد رفیق کے اس بیان پر پاک فوج کے موقف کے بارے میں پوچھا تو میجر جنرل آصف غفور نے کچھ دیر تک خاموشی اختیار کی جس کے بعد وہ بولے کہ خواجہ سعد رفیق کا بیان غیر ذمہ دارانہ تھا، ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاک فوج نظم و ضبط والا ادارہ ہے سیاسی بیانات کا کوئی رد عمل نہیں دینا چاہتے لیکن یہ دیکھنا چاہیے کہ پاک فوج میں تمام لوگ آرمی چیف کے حکم پر ہی چلتے ہیں۔ آرمی چیف کہتے ہیں تو ہی پاک فوج کے جوان قربانیاں دیتے ہیں اور اگر آرمی چیف

ایک طرف دیکھنا شروع کردیتے ہیں تو پوری فوج اسی طرف دیکھتی ہے۔ میجر جنرل آصف غفور نے قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی دھمکیوں کے خلاف ہمیں ایک قوم کی طرح کھڑا ہونا ہے ، افواج سرحدوں پر کھڑی ہے اور عوام کی محبت کے علاوہ اسے کچھ نہیں چاہیے اس لیے حقائق جانے بغیر دشمن کی باتوں میں نہ آئیں۔انہوں نے کہا کہ 25 دسمبر کو بھارت کی جانب سے مختلف خبریں چلائی گئیں لیکن پاکستانی میڈیا نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور انہیں جگہ نہیں دی جو قابل تحسین اقدام ہے۔ میڈیا ففتھ جنریشن وار فیئر کا اہم حصہ ہے ، کسی بھی غیر ملکی میڈیا کی خبر کو حقائق جانے بغیر چلادینے سے دشمن کا مقصد پورا ہوتا ہے اور پاکستانی میڈیا نے دشمن کے ارادوں کو پورا نہیں ہونے دیا۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان نے 2 بار درآمد شدہ جنگ اپنی دھرتی پر لڑی لیکن ہم نے بہت کرلیا اور اب کسی کیلئے اس سے زیادہ نہیں کرسکتے ، ہم نے امریکہ سے جو بھی رقم حاصل کی وہ اتحادی سپورٹ فنڈ کی مد میں حاصل کی جس کا مطلب ہے کہ ہمیں افغانستان میں امن کیلئے

کام میں خرچ ہونے والی رقم واپس کی گئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں القاعدہ کو کبھی سپورٹ نہیں کیا، پاکستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانے نہیں ہے اور نہ ہی کوئی دہشتگرد تنظیم موجود ہے، شمالی وزیر ستان میں آپریشن ضرب عضب کے دوران حقانی نیٹ ورک سمیت ہر قسم کے دہشتگردوں کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں کیں، 27 لاکھ افغان مہاجرین کو واپس بھیجا ہے پاکستان افغانستان میں امن کیلئے پوری کوشش کر رہا ہے ہم نے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کردیا ہے جبکہ اضافی چیک پوسٹس بنانے کا کام بھی شروع کردیا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ امریکہ اور افغانستان کیلئے وقت ہے کہ وہ پاکستان سے ڈومور کہنے کی بجائے خود ڈو مور کریں پاکستان سے زیادہ کسی نے دہشتگردی کے خلاف کچھ نہیں کیا، امریکہ کو بھارت کے پاکستان مخالف رویوں کا افغانستان اور ایل او سی پر جائزہ لینا ہوگا، ہم اپنی عزت پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے ہم دوستوں سے تنازعہ نہیں چاہتے لیکن کسی سے نوٹسز بھی نہیں لے سکتے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ امریکہ اور افغانستان کیلئے وقت ہے کہ وہ پاکستان سے ڈومور کہنے کی بجائے خود ڈو مور کریں پاکستان سے زیادہ کسی نے دہشتگردی کے خلاف کچھ نہیں کیا، امریکہ کو بھارت کے پاکستان مخالف رویوں کا افغانستان اور ایل او سی پر جائزہ لینا ہوگا، ہم اپنی عزت پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے ہم دوستوں سے تنازعہ نہیں چاہتے لیکن کسی سے نوٹسز بھی نہیں لے سکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.