پارٹی لیڈر شپ اور وزیراعظم کا تاج مریم نواز کو ملے گا یا شہباز شریف کو؟ ملکی سیاست کو گرما دینے والی خبر آگئی

پارٹی لیڈر شپ اور وزیراعظم کا تاج مریم نواز کو ملے گا یا شہباز شریف کو؟ ملکی سیاست کو گرما دینے والی خبر آگئی

لاہور (ویب ڈیسک) ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پارٹی کی لیڈر شپ کسی اور کو دینا نواز شریف کے لئے اطمینان کا باعث نہیں۔نوازشریف اپنی بیٹی کو سیاسی کردار ادا کرنے کے لئے تیار کر رہے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پارٹی کی لیڈر شپ کسی اور کو دینا ان کے لئے اطمینان کا باعث

نہیں کیونکہ اس سے پہلے انہوں نے اعلان کیا تھا کہ مسلم لیگ ن کے لیڈر شہباز شریف ہوں گے اور بعدازاں قانون میں ترمیم کرا کے پچھلے دروازے سے پارٹی کے صدر بن گئے۔ جماعت کے اندر دراڑ واضح ہے، ایک گروہ بن چکا ہے جو مریم نواز کے قریب ہے اور آگے بڑھنے کے لئے انہی کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ مریم نواز کی یہ پوزیشن ہے کہ مسلم لیگ ن کے لیڈر اور اگلے وزیرا عظم نوازشریف ہی ہونے چاہئیں اور چونکہ اب وہ نہیں بن سکتے، اس لئے وہ خو د اس کی حق دار ہیں۔ادھر خاندان کے دوسرا حصے شہباز شریف اور ان کے بیٹے پر نواز شریف کو اعتماد نہیں۔ دونوں بھائیوں میں خلیج حائل ہے جو نظریاتی نہیں بلکہ یہ بنیادی طور پر خاندان کے اندر اقتدار کی جنگ ہے۔ شہبازشریف کو پتا ہے کہ وہ باہر نکل کر نواز شریف کی کھلے انداز میں مخالفت کر کے بھی لیڈر نہیں بن سکتے۔ وہ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اگر وہ کسی سائے میں رہ کر وزارت اعلیٰ سے آگے نکل سکتے ہیں تو وہ صرف نوازشریف ہیں لہذاوہ بھی اس وقت حقیقت پسندانہ سیاست کر رہے ہیں۔ فیصلہ نواز شریف کو کرنا ہے کہ

ان کا بھائی ان کے اقتدار کا وارث بنے گا یا بیٹی ؟ میرا خیال یہی ہے کہ ان کی بیٹی بنے گی اور شہباز شریف کو یہی کہا جائے گا کہ آپ وزیراعلیٰ رہیں گے یا کوئی اور اہم عہدہ دے کر ان کو بھی ساتھ رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ شہباز شریف الیکشن میں ان سے الگ نہیں ہونگے کیونکہ انہیں پتا ہے کہ اگر وہ علیحدہ ہوتے ہیں تو ان کے پاس کچھ نہیں بچے گا۔دوسری طرف خاندان اور جماعت پر دبائو ڈالا جا رہا ہے جس کو میں غیر جمہوری دبائو سمجھتا ہوں، 31 دسمبر کے بعد مولانا صاحب دھرنا دینا چاہتے ہیں ،انہیں زرداری ،عمران خان اور دوسرے لوگوں کی بھی حمایت حاصل ہے، اس کا مقصد صرف یہی ہے کہ ان کو اقتدار سے الگ کیا جائے۔ پنجاب یا وفاق کی حکومت جس وقت بھی ختم ہو گی اور انتخابات کا اعلان ہو گا تو اس وقت کافی لوگ مسلم لیگ ن سے الگ ہوں گے مگر یہ تعداد اتنی نہیں ہو گی، جس کی قیاس آرائی ہوتی رہی ہے۔( تجزیہ: ڈاکٹر رسول بخش رئیس) واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے 2018 کے الیکشن کے لیے بطور وزیراعظم شہباز شریف کا نام سمنے آیا تھا اور وزیراعلیٰ کے لیے مریم نواز کا نام زیر غور ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.