امریکہ کوسال کے اختتام میں 2017 کا سب سے بڑاجھٹکا،پاکستان اور چین میں انتہائی شاندار معاہدہ طے پا گیا

امریکہ کوسال کے اختتام میں 2017 کا سب سے بڑاجھٹکا،پاکستان اور چین میں انتہائی شاندار معاہدہ طے پا گیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چین اور پاکستان نے تجارت کے لیے اپنی اپنی کرنسی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ’سوآپ‘ کہلاتا ہے۔گزشتہ روز وزیر داخلہ احسن اقبال نے سی پیک کے لانگ ٹرم پلان کے افتتاح کے موقع پر اس بات سے میڈیا کو آگاہ کیا۔کرنسی کی تبدیلی کا دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ ہے کہ پاکستان، چین سے خریدی گئی اشیاء کی

ادائیگی یوآن میں اور چین پاکستان سے خریدی گئی اشیاء کی ادائیگی روپوں میں کرسکتا ہے۔ادائیگی کا طریقہ کار وضع کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک اور پیپلز بینک آف چائنا کے درمیان کرنسی ’سوآپ‘ معاہدہ ہوا۔ 2011 میں طے پائے معاہدے کے تحت اسٹیٹ بینک، چینی مرکزی بینک سے 10 ارب یوآن تک قرض لے سکتا ہے اور بدلے میں 140 ارب روپے قرض دے سکتا ہے۔’سوآپ‘ سہولت کے استعمال سے اسٹیٹ بینک کے خزانے میں یوآن آجاتے ہیں جسے بینکوں کو فراہم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک یوآن قرض سہولت کی نیلامی کرتاہے، بینک بولی دے کر اسٹیٹ بینک کے ساتھ ’سوآپ‘ لائنز بنا لیتے ہیں اور لون سہولت اپنے صارف کو مہیا کرتے ہیں تاکہ وہ یوآن میں ادائیگی کرسکیں۔23 دسمبر کو اس معاہدے کے 6 سال مکمل ہورہے ہیں اس لئے وزیر داخلہ احسن اقبال کے تجارت دوملکوں کی کرنسی کے ذریعے طے کرنے کے اعلان پر مالیاتی شعبے نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔خیال رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ، منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ سی پیک سے ہر صوبے کو پورا حصہ ملے گا، اقتصادی راہداری کسی کے خلاف سازش نہیں، دنیا کا ہر ملک سی پیک سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ،

پاک چین تجارت میں ڈالر کے بجائے چینی کرنسی کے استعمال پر غور کررہے ہیں کیونکہ اس طرح بار بار کرنسی تبدیل نہیں کرنا پڑے گی۔چین نے پاکستانی طلبا کو پی ایچ ڈی کے لیے یونیورسٹیوں میں داخلے دینے کی پیشکش کی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے طویل المیعاد منصوبہ کے افتتاح کے موقع پر کیا۔اس موقع پر پاکستا ن میں چین کے سفیر ژاؤ ژنگ سمیت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے عہدیدار، کاروباری اور صنعت کے نمائندے ، ماہرین تعلیم، ذرائع ابلاغ اور دوسری ممتاز شخصیات بھی موجود تھیں ۔ وزیرمنصوبہ بندی نے کہا کہ ملک میں تیز تر ترقی، خوشحالی کیلئے سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے ، چین پاکستان اقتصادی راہداری کے طویل المیعاد منصوبے کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے ۔ موجودہ حکومت کے اقدامات سے ملک تیزی سے ترقی کر رہا ہے ، احسن اقبال نے کہا پاکستان میں کوئی غیر ملکی کرنسی چلانے کی تجویز نہیں ہے ، چین کی خواہش ہے پاکستان اور چین کے درمیان تجارت ڈالر کے بجائے چینی کرنسی (آر ایم بی) میں ہو، اس تجویز کا دونوں ملکوں کے ماہرین جائزہ لے رہے ہیں، ملک کے مفاد میں اس کا فیصلہ کیا جائے گا ۔

تقریب سے پاکستان میں چین کے سفیر ژاؤ ژنگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور چین سی پیک منصوبے کو مکمل کرنے کیلئے پرعزم ہیں، سی پیک سے پورے خطہ میں خوشحالی آئے گی۔ چینی سفیر نے کہا کہ سی پیک پاک چین دوستی کا ایک اہم عنصر ہے ۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری صرف چین اور پاکستان کے درمیان تعاون بڑھانے کیلئے حکمت عملی کا نام نہیں بلکہ یہ اس پورے خطہ کی ترقی و خوشحالی کیلئے اہم کردار ادا کرے گی، اقتصادی راہداری سے نہ صرف دونوں ملکوں بلکہ خطہ کے دوسرے ملکوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ علاوہ ازیں آئی این پی کے مطابق چین نے سی پیک منصوبے پر پاکستان کے موقف کی تائید اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک کی طویل مدتی منصوبہ بندی پاک چین تعلقات میں نئی جہت کا شاخسانہ ہے ۔دو طرفہ قیادت کا نقطہء نظر اور عزم خوشحال مستقبل کی نوید ہے ، سی پیک سے منسلک مختصر منصوبے 2020تک ،درمیانی مدت کے منصوبے 2025اور طویل مدتی منصوبے 2030تک مکمل کر لئے جائیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.