بڑے لیڈر بنے پھرتے ہو کان کھول کر سن لو ۔۔۔ چیف جسٹس نے ایسا اعلان کردیا کہ تمام سیاستدانوں کی عقل ٹھکانے آگئی

بڑے لیڈر بنے پھرتے ہو کان کھول کر سن لو ۔۔۔ چیف جسٹس نے ایسا اعلان کردیا کہ تمام سیاستدانوں کی عقل ٹھکانے آگئی

کراچی (نیوز ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ انہیں لیڈری کا کوئی شوق نہیں ہے ، انہوں نے میو ہسپتال کا دورہ انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے کیا۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سمندری آلودگی کے کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 5رکنی بنچ کررہا ہے۔ دوران سماعت

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ لاہور میں ان کے دورہ میوہسپتال پر بڑے اعتراضات کیے گئے حالانکہ وہ دورہ انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے کیا، ’جس نے مجھ پرتنقید کرنی ہے کرلے لیکن صاف کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے لیڈری کا کوئی شوق نہیں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ میو ہسپتال میں وینٹی لیٹرکی سہولت موجود نہیں ہے، بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے پانی اور صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے جو کرنا پڑا کریں گے۔ اداروں پر برسر اقتدار ہر شخص موجودہ کیفیت کاذمہ دارہے ، کوئی مزدور اور غریب شہری ملکی صورتحال کاذمہ دارنہیں۔ہم کسی واٹر بورڈ اور کسی سیکرٹری کو نہیں جانتے بلکہ وزیراعلیٰ اورکابینہ کوذمہ دارسمجھتے ہیں اورنتائج چاہتے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ الیکشن سے پہلے سندھ اور پنجاب میں پینے کے پانی کا مسئلہ حل کرکے رہیں گے۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ نے سمندری آلودگی کی سنگین صورتحال سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ صاف پانی فراہم کرنا سندھ حکومت کی ذمے داری ہے، لیکن شہریوں کو گندہ پانی مہیا کیا جارہا ہے اور یہ انسانی زندگیوں کا معاملہ ہے، پانی کی قلت سے واٹر مافیا مضبوط ہوتی ہے۔

ایم ڈی واٹر بورڈ نے کہا کہ پانی کی چوری کی مستقل نگرانی کر رہے ہیں، گندے پانی کی وجہ زیر زمین لائنوں میں غیر قانونی کنکشن اور لیکیج ہے، کینجھر جھیل سے آنے والا پانی صاف ہے، ساڑھے چار ہزار ٹینکر یومیہ چلے ہیں۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ شہر میں پانی کی لائنیں 20,25 سال سے تبدیل نہیں ہوئیں۔ چیف جسٹس نے ایم ڈی واٹر بورڈ سے استفسار کیا کہ کیا آپ ضمانت دیتے ہیں کہ ابھی کینجھر جھیل چیک کرائیں تو پانی صاف ہوگا، پانی سے صرف مٹی نکالنے کو فلٹریشن نہیں کہتے، کیا یہ پانی پاک اور پینے کے قابل ہوتا ہے، کراچی میں 45 لاکھ ملین گیلن گندہ پانی سمندر میں جا رہا ہے، کیا یہ معمولی بات ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے چھ ماہ میں پانی کے مسئلے کا حل چاہیئے، پچھلی مرتبہ میں پورٹ گرینڈ گیا جہاں کچرے کے ڈھیر تھے، کچرا سر سے اوپر تک دکھائی دے رہا تھا، آخر یہ کچرا کون اٹھائے گا، ہیپاٹائیٹس تیزی سے پھیل رہا ہے کیا پوری قوم کو مفلوج کرنا چاہتے ہیں، پانی کی فروخت کاروبار بن چکا ہے، پانی فراہمی کا کوئی نظام نہیں، یہ واٹر بورڈ کی غفلت ہے۔ ایم ڈی واٹر بورڈ نے کہا کہ کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی، عمارتوں کی تعمیر اور غیر قانونی کنکشن تباہی کا سبب ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.