آج کی دھماکہ دار خبر: آصف زرداری یا پرویز مشرف۔۔۔ بے نظیر بھٹو کا اصل قاتل کو ن ہے؟ آخر کا نام سامنے آ ہی گیا

آج کی دھماکہ دار خبر: آصف زرداری یا پرویز مشرف۔۔۔ بے نظیر بھٹو کا اصل قاتل کو ن ہے؟ آخر کا نام سامنے آ ہی گیا

دبئی (ویب ڈیسک) سابق صدر پرویزمشرف نے بےنظیر کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام پھر مسترد کردیا۔نجی ٹی وی چینل میں گفتگو کرتے ہوئےسابق صدر پرویزمشرف نےکہاکہ مجھ پر الزام لگانے والا ہی بے نظیربھٹو کا قاتل ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کا جھکاؤ چین کے بجائے امریکا کی جانب ہونا چاہیے۔ انھوں نے وضاحت کی کہ امریکا ٹھیک ہے،چین سے محتاط ہوکر ڈیل کرنی چاہئے۔

پرویزمشرف نے مزید کہاکہ شریف خاندان کو اب سعودی گھسنے نہیں دیں گے۔ تفصیلات کے مطابق پرویز مشروف نے کہا ہے کہ بے نظیر کا کیس ابھی چل رہا ہے۔ اور میرے اورپر جو الزام لگا رہا ہے وہ ہی بے نظیر کا قاتل ہے۔ اس پر اینکر مبشر لقمان نے سابق صدر پرویز مشروف سے سوال کیا کہ بے نظیر کے قتل کا الزام آپ پر کس نے لگایا ہے؟ تو اس پر سابق صدر کا کہنا تھا کہ میرے اوپر آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے الزام لگایا ہے۔ اس پر مبشر لقمان نے پھر زور دیتے ہوئے پوچھا کہ آپ واضح طور پر بتائے کہ نواز بے نظیر کا قاتل کون ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ آصف زرداری ہی بے نظیر کے قاتل ہیں۔ واضح رہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن اور دو مرتبہ ملک کی وزیراعظم بننے والی محترمہ بے نظیر بھٹو 1953ء میں پیدا اور 27اکتوبر 2007ءکو راولپنڈی میں شہید ہوئیں۔9برس قبل آج ہی کے دن دنیا چھوڑنے والی بے نظیر بھٹو کراچی میں ذوالفقارعلی بھٹو کے گھر پیدا ہوئیں،انہوں نے برطانیہ اور امریکا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی، تعلیم مکمل ہی کی تھی کہ ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔

والد کو پھانسی کے بعد بے نظیر بھٹو کو نظر بندی اور جلا وطنی کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں،وہ 1986ء میں وطن واپس آئیں، 1987ء میںآصف علی زرداری سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔ 1988میں وہ تاریخ کی سب سے کم عمر اور اسلامی دنیا کے کسی ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں تاہم 20 ماہ بعد ہی ان کی حکومت کو برطرف کردیاگیا۔1993 میں وہ دوسری مرتبہ برسراقتدار آئیں لیکن 1996 میں ایک مرتبہ پھر ان کی حکومت ختم کر دی گئی، 1998 میں انہوں نے پھر جلاوطنی اختیار کی اور 18 اکتوبر 2007 کو وطن واپس پہنچی تو ان پر پہلا حملہ ہوا جس میں وہ تو بچ گئیں ،لیکن 200 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔پہلے حملے کے ٹھیک 2ماہ 9 دن بعد 27 دسمبر 2007 راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ان پر دوسرا حملہ ہوا جس میں وہ شہید ہوگئیں۔ واضح رہے کہ راولپنڈی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے مقدمۂ قتل کے فیصلے میں زیر حراست پانچ مرکزی ملزمان کو بری کرتے ہوئے دو پولیس افسران کو مجرمانہ غفلت برتنے پر 17 برس قید اور جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔عدالت نے اس وقت کے ملک کے فوجی سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو بھی اس مقدمے میں اشتہاری قرار دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.