تہلکہ خیز بریکنگ : عمران خان وزیراعظم ، شہباز شریف وزیراعلیٰ ، بڑا فیصلہ سامنے آگیا

تہلکہ خیز بریکنگ : عمران خان وزیراعظم ، شہباز شریف وزیراعلیٰ ، بڑا فیصلہ سامنے آگیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں معروف صحافی سہیل وڑائچ نے آئندہ حکومت سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ اب وزیر اعظم کے عہدے کے لیے عمران خان اور شہباز شریف مد مقابل ہوں گے۔ انہوں نے اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اسٹیبلشمنٹ

کو یہی سوٹ کرتا ہے دونوں میں توازن ہو اور یہ ایک دوسرے پر چیک رکھیں ،ہو سکتا ہے کہ شہباز شریف پنجاب کو سنبھالیں اور اوپرکا عہدہ عمران خان کو دے دیا جائے۔ ضروری یہ ہے کہ ایک دوسرے کا ایک دوسرے پر چیک ہو ، تاکہ آئندہ حکومت مین بھی ایک مضبوط اپوزیشن آئے یہی مناسب ہو گا ۔ جبکہ دوسری جانب سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ اگلے وزیراعظم شہباز شریف ہوں گے اور ان کی انتخابی مہم اور تحریک ساتھ ساتھ چلے گی۔ رائیونڈ جاتی امرا میں منعقدہ ایک اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ تحریک عدل، سویلین بالادستی اور مضبوط جمہوریت آئندہ انتخابات میں ہمارے بنیادی اصول اور نعرے ہوں گے، امید ہے کہ قوم ان کو پذیرائی بخشے گی۔ اجلا س میں سینیٹر پرویز رشید، عرفان صدیقی، دانیال عزیز اور ابصار عالم بھی موجود تھے۔ نواز شریف نے کہا کہ عدل و انصاف جمہوری معاشروں کے لیے ناگزیر ہوتا ہے، جب انصاف کے پیمانے پسند و ناپسند پر الگ الگ ہو جائیں تو پھر معاشروں میں استحکام نہیں آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ‘مجھے محض اقامہ کی بنیاد پر نااہل قرار دے کر گھر بھجوا دیا گیا جبکہ عمران خان

کے حوالے سے بہت کچھ ہونے کے باوجود انہیں اہل قرار دیدیا گیا، میں دونوں مقدمات کے فیصلوں کے تضادات سے قوم کو آگاہ کروں گا’۔ نواز شریف نے کہا کہ 70سالہ خرابیاں دور کرنے کے لیے کسی کو تو کھڑا ہونا پڑے گا، ‘میں کھڑا ہوں اور ہر طرح کی صعوبتیں برداشت کرنے کو تیار ہوں، یقین کریں ثابت قدم رہوں گا، ہمارا عوامی اور سیاسی مقدمہ بہت مضبوط ہے اور عوام کھرے کھوٹے اور سچ جھوٹ کی پہچان اور ادراک رکھتے ہیں’۔ نواز شریف نے کہا کہ ‘آنے والے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار شہباز شریف ہوں گے، ان کے اور میرے بیانیہ میں کوئی فرق نہ ہو گا اور مستقبل میں پالیسی ایک ہی ہوگی’۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ‘شہباز شریف تیز رفتار، محنتی اور بے حد اچھے منتظم ہیں، 2013ء کے انتخابات میں جو کامیابی حاصل ہوئی اس میں ان کا بھی بڑا کردار تھا۔ انہوں نے جماعت کے ساتھ ہر مشکل وقت میں کمٹمنٹ نبھائی’۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ‘میں نے جس طرح ساڑھے چار سال گزارے وہ مجھے ہی معلوم ہے مگر اس کے باوجود ہم نے بجلی کے کارخانے لگائے، لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا، کراچی میں امن قائم کیا، پہلے کوئی کیوں نہ کر سکا؟’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.