نا اہلی کے باوجود سرکاری پروٹوکول لینا نواز شریف اور مریم نواز کو مہنگا پڑ گیا، عدالت نے حکم جاری کرتے ہوئے شریفوں کی نیندیں حرام کردیں

نا اہلی کے باوجود سرکاری پروٹوکول لینا نواز شریف اور مریم نواز کو مہنگا پڑ گیا، عدالت نے حکم جاری کرتے ہوئے شریفوں کی نیندیں حرام کردیں

لاہور(ویب ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے نااہلی کےباوجود پروٹوکول ملنے پر نواز شریف اور مریم نواز کیخلاف درخواست کی سماعت پر وفاق،پنجاب حکومت کو آئندہ سماعت پرہرصورت جواب داخل کرانےکا حکم دیدیا۔تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں نااہلی کےباوجودنواز شریف اور مریم نواز کے سرکاری پروٹوکول لینے سے متعلق پی ٹی آئی رہنماعندلیب عباس کی درخواست پر جسٹس شاہدکریم نے سماعت کی۔

عدالت نے وفاقی اور پنجاب حکومت کی جانب سے نااہلی کے باوجود نواز شریف اور مریم نواز کو پروٹوکول دینے سے متعلق جواب داخل نہ کرانے پر برہمی کا اظہار کیا اور آئندہ سماعت پر ہر صورت جواب داخل کرانے کا حکم دیا۔درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کو نااہل کیا، اس کے باوجود سابق وزیراعظم پنجاب ہاؤس کا استعمال کر رہے ہیں، ان کے پروٹوکول کے ساتھ 40 گاڑیاں ہیں جو کہ عوام کے پیسے کا ضیاع ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی میں پیشی کے دوران نواز شریف اور مریم نواز کے پروٹوکول کی مد میں 2.18 ملین خرچ کیے گئے۔دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت نواز شریف سے پروٹوکول واپس لینے کا حکم دے اور نواز شریف کے پنجاب ہاؤس میں میٹنگز کرنے پر بھی پابندی عائد کی جائے۔یاد رہے کہ دو روز قبل احتساب عدالت میں نا اہل وزیراعظم کی پیشی کے موقع پر نوازشریف کا قافلہ سخت سیکیورٹی حصارمیں احتساب عدالت پہنچایا گیا‘ اس موقع پر کارکنان نے گاڑی کو گھیرے میں لے لیا اور ان کی حمایت میں نعرے بازی کی۔اس موقع پر وفاقی وزرا بھی کارکنان سے پیچھے نہیں رہے اور نا اہل وزیر اعظم کی پیشی کے موقع پر پیشی کو یقینی بنایا ۔اس سے قبل وطن واپسی کے موقع پر اسلام آباد ایئر پورٹ سے نااہل نوازشریف کا قافلہ جب ائیرپورٹ سے باہر نکلا تو شاہانہ انداز میں ایک یا دو نہیں پوری چھپن گاڑیاں ان کے آگے پیچھے تھیں۔خیال رہے کہ لاہورہائی کورٹ نے میاں نواز شریف اور مریم نواز کے پروٹوکول استعمال کرنے کے خلاف دائر درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور مریم نواز سمیت فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔

ذرائع کے مطابق آج بروز جمعہ لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس شاہد کریم نے پاکستان تحریک ِ انصاف کی رہنما عندلیب عباس کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی ۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ میاں نواز شریف کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا‘ مگر نااہلی کے باوجود سابق وزیراعظم سرکاری پروٹوکول استعمال کر رہے ہیں ۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ میاں نواز شریف اور مریم نواز کی پیشیوں پر اب تک 218 ملین روپے خرچ ہوئے جو قومی خزانے کا ضیاع ہے ۔عندلیب عباس کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ میاں نواز شریف نااہل ہونے کے باوجود پنجاب ہاوس میں سرکاری اجلاسوں کی صدارت کرتے ہیں جو قانون اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی کھلی خلاف ورزی ہے لہذا عدالت پروٹوکول واپس لینے اور میاں نواز شریف کی سرکاری اجلاسوں میں شرکت روکنے کا حکم دے ۔عدالت نے درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے نواز شریف ، مریم نواز ، وفاقی اور صوبائی حکومت سمیت فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔واضح رہے کہ احتساب عدالت میں نا اہل وزیراعظم کی پیشی کے موقع پر نوازشریف کا قافلہ سخت سیکیورٹی حصارمیں احتساب عدالت پہنچایا گیا‘ اس موقع پر کارکنان نے گاڑی کو گھیرے میں لے لیا اور ان کی حمایت میں نعرے بازی کی۔اس موقع پر وفاقی وزرا بھی کارکنان سے پیچھے نہیں رہے اور نا اہل وزیر اعظم کی پیشی کے موقع پر پیشی کو یقینی بنایا ۔اس سے قبل وطن واپسی کے موقع پر اسلام آباد ایئر پورٹ سے نااہل نوازشریف کا قافلہ جب ائیرپورٹ سے باہر نکلا تو شاہانہ انداز میں ایک یا دو نہیں پوری چھپن گاڑیاں ان کے آگے پیچھے تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.