آج کی بڑی بریکنگ نیوز : عدالت نے ایک اور اعلیٰ عہدے دار کو عہدے سے فوری ہٹانے کا حکم دے دیا ، ن لیگ میں کھلبلی مچ گئی

آج کی بڑی بریکنگ نیوز : عدالت نے ایک اور اعلیٰ عہدے دار کو عہدے سے فوری ہٹانے کا حکم دے دیا ، ن لیگ میں کھلبلی مچ گئی

لاہور (نیوز ڈیسک) چیئرمین پیمرا کے بعد عدالت نے ایک اور اعلیٰ عہدیدار کو فوری عہدے سے ہٹانے کا حکم دیدیا،تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی اے اسماعیل شاہ کی تعیناتی کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی ، جسٹس شاہد کریم نے درخواست کی سماعت کی ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے

کہ چیئرمین پی ٹی اے کی مدت ملازمت 4 سال پہلے ختم ہوچکی ،مدت ملازمت ختم ہونے کے باوجود اسماعیل شاہ کام کررہے ہیں،ان کا عہدے پر رہنا قانون کی خلاف ورزی ہے،عدالت سے استدعا ہے کہ انہیں عہدے سے ہٹایا جائے ۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد چیئرمین پی ٹی اے اسماعیل شاہ کوعہدے سے ہٹانے کاحکم دے دیا اور 30 روز میں نیا چیئرمین لگانے کا حکم دے دیا،وفاقی حکومت نے نئے چیئرمین پی ٹی اے کی تعیناتی کی یقین دہانی کرادی۔ جبکہ دوسری جانب سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے قائم مقام چئیرمین پیمرا پرویز راٹھور کو فوری طور پر ہٹانے اور مستقل چئیرمین پیمرا لگانے کی سفارش کردی۔ کمیٹی نے وزارت اطلاعات و نشریات سے میڈیا کے ضابطہ اخلاق کے حتمی ڈرافٹ کی کاپی بھی طلب کرلی۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس سینیٹر کامل علی آغا کی صدارت میں اسلام آباد میں ہوا۔ کمیٹی نے 7 ماہ گزر جانے کے باوجود ٹی وی چینلز کے لیے ضابطہ اخلاق تیار نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔ چئیرمین کمیٹی کامل علی آغا کا کہنا تھا کہ اگر کوڈ آف کنڈکٹ کو حتمی شکل دے دی گئی ہے تو آج کمیٹی میں پیش کیوں نہیں کیا گیا،

غیر سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ وزیر اطلاعات کمیٹی میں ہی نہیں آئے۔ سیکرٹری اطلاعات نذیر سعید نے کہا کہ وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی نے ضابطہ اخلاق کی منظوری کے لیے وزارت میں جمع کروا دیا ہے۔ چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ قائم مقام چئیرمین پیمرا کے باعث قوم میں انتشار اور شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں، موجودہ چئیرمین جب بھی کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو لوگ حکم امتناعی لے لیتے ہیں، پیمرا کو غیر ملکی مواد چلانے کی خلاف ورزی پر ہر گھنٹے کے بعد جرمانہ کرنا چاہئیے۔ کامل علی آغا نے کہا کہ پیمرا ہر 15روز بعد خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایکشن کی رپورٹ پیش کرے، غیر ملکی مواد کی بھرمار آزادی صحافت کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ جبکہ دوسری جانب سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں کے بارے میں توہین آمیز مواد کی اشاعت کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے حکومت کو آرٹیکل 19 کی مہم تمام پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر چلانے کا حکم دے دیا ہے۔ دوسری جانب پکستانی وزارتِ داخلہ نے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد تک ہٹانے کے لیے فیس بُک کی انتظامیہ نے ایک وفد پاکستان بھجوانے پر رضامندی کا اظہار کیا کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.