دھڑا دھڑ فیصلے : دبنگ چیف جسٹس نے ایک بار پھر دبنگ حکم جاری کردیا ، پاکستانیوں کے دل خوش ہوگئے

دھڑا دھڑ فیصلے : دبنگ چیف جسٹس نے ایک بار پھر دبنگ حکم جاری کردیا ، پاکستانیوں کے دل خوش ہوگئے

ملتان (نیوز ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ملتان کی پرانی کچہری بحال کرنے کا حکم دے دیا۔ اپنے دورہ ملتان کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نیو جوڈیشل کمپلیکس گئے جہاں انہوں نے وکلا سے ملاقات کی اور ان کے مسائل دریافت کیے۔ جوڈیشل کمپلیکس

از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان رجسٹرارلاہورہائیکورٹ خورشیدانوررضوی پربرس پڑے ، انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عجلت میں کمپلیکس بنانے کے احکامات کیوں دیے گئے؟، کھیتوں میں جا کر جوڈیشل کمپلیکس بنادیا گیا ہے ، یہاں تک پہنچنے میں 20 منٹ لگے۔ چیف جسٹس نےنے ملتان کی پرانی کچہری بحال کرنے کا حکم دے دیا اور کہا کہ 10 یوم کے اندر اندر کچہری بحال کی جائے۔ جبکہ دوسری جانب چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار نے کہا کہ والد کے امیر یا غریب ہونے سے فرق نہیں پڑتا‘ ٹیکس کی ادائیگی کے بعد رقم تحفہ کرنے میں کوئی حرج نہیں‘ ابھی تک ہمیں ٹرسٹ ڈیڈ نہیں دی گئی‘ بینک ریکارڈ سے ثابت ہوگیا کہ منی لانڈرنگ نہیں ہوئی‘درخواست گزار کا کیس بیرون ملک گھر ظاہر نہ کرنے کا تھا‘ جہانگیر ترین کیس میں صرف ایمانداری کا جائزہ لے رہے ہیں‘ جہانگیر ترین کے جواب میں بے ایمانی نظر نہیں آئی‘ پانامہ کیس میں بھی بینی فیشل مالک کا معاملہ سامنے آیا تھا‘ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ جہانگیر ترین نے ویلتھ گوشواروں میں ٹرسٹ کو ظاہر نہیں کیا بچوں کے گوشوارے اثاثوں میں ظاہر کرنے ہوتے ہیں‘ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ شائننگ ویو کی تمام دستاویزات بھی دکھائیں۔

بدھ کو سپریم کورٹ میں جہانگیر ترین نااہلی کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے سوال کیا کہ قرض کی ادائیگی کس نے اور کیسے کی؟ وکیل سکندر بشیر نے ہا کہ جہانگیر ترین نے ادائیگی کیلئے رقم پاکستان سے بھجوائی تھی جہانگیر ترین رقم آف شور کمپنی کو منتقل کرتے تھے۔ بیرون ملک جائیداد سے کوئی آمدن نہیں ہورہی۔ جسٹس فیصل عرب نے سوال کیا کہ کیا ہائیڈ ہائوس اثاثہ نہیں ہے؟ وکیل نے کہا کہ قانونی طور پر ہائیڈ ہائوس جہانگیر ترین کا اثاثہ نہیں تمام ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ عدالت کو دے چکے ہیں۔ دوران سماعت جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر نے پینے کے لئے پانی منگوایا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سکندر بشیر صاحب کبھی نارمل موڈ میں بھی رہا کریں ہر وقت ٹینشن میں کیوں رہتے ہیں۔ مجھے دیکھیں اس منصب پر آنے کے بعد کتنی تبدیلی لانی پڑی۔ وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ کوشش کرتا ہوںمگر آپ کی عدالت میں ہر چیز کو آسان نہیں لے سکتا۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ شائننگ ویو تو تمام رقم ملنے کی تمام دستاویزات بھی دکھائیں وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ شائننگ ویو کے اکائونٹ کی تفصیلات فی الحال موجود نہیں ہیں عدالت حکم دے تو ریکارڈ منگوایا جاسکتا ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے سوال کیا کہ کیا ادائیگیوں کو ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کیا گیا۔ وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ ٹیکس گوشواروں میںتمام ادائیگیاں ظاہر کی گئی ہیں۔ چیفجسٹس نے وکیل اکرم شیخ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو جہانگیر ترین کے بینک ریکارڈ پر اعتراض ہے۔ حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ رقم کس کو منتقل ہوئی یہ نہیں بتایا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بینک ریکارڈ سے ثابت ہوگیا کہ منی لانڈرنگ نہیں ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.