عمران خان کا مصطفی کمال سے اتحاد، مزید کتنی جماعتیں شامل ہونگی؟ تہلکہ مچا دینے والی خبر آ گئی

عمران خان کا مصطفی کمال سے اتحاد، مزید کتنی جماعتیں شامل ہونگی؟ تہلکہ مچا دینے والی خبر آ گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام مں بات کرتے ہوئے عوامی مسلم لگص کے سربراہ شخی رشدچ نے کہا کہ جب عمران خان نے مجھے وزیر اعظم کا اُمدسوار ٹھہرایا تو ایم کود ایم کے سربراہ فاروق ستار نے مرلی پکڑائی نہںا کی اورشاہد خاقان عباسی کی چالوں مںا آگئے۔

جس پر مںا بے حد خفا ہوں ، انٹرویو مںا شخف رشدی کا کہنا تھا کہ عمران خان اور مصطفیٰ کمال کا اتحاد ہو سکتا ہے ۔ ییں نہں بلکہ اس اتحاد مںد مزید مذہبی جماعتںظ بھی ہوں گی ۔ ان مںا ابولخرب آزاد اور ثروت قادری بھی آ سکتے ہںف۔ کچھ روز قبل پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان اور پاک سرزمین پارٹی کے رہنما مصطفی کمال سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور مستقبل مل کر کام کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا. مصطفی کمال اور عمران خان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں فاٹا کے پاکستان میں انضمام ،قبل از وقت الیکشن ،انتخابی اتحاد سمیت مختلف موضوع پر بات چیت ہوئی۔بتا یا جا رہا ہے کہ جلد ہی عمران خان اور مصطفی کمال کی ملاقات کا بھی امکان ہے اور اس سلسلے میں تحریک انصاف کے رہنما فیصل واڈا کو ٹاسک دیا جا چکا ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور مصطفیٰ کمال کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے ۔ دونوں رہنمائوں نے فون پر ملک کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا اور آئندہ انتخابات سمیت موجودہ سیاسی تنائو کے خاتمے پر اپنی تجاویز پیش کیں۔ دونوں ملکی صورتحال کے حوالے سے بہت جلد ون ٹو ون ملاقات کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں رہنمائوں نے پاکستان کی سیاسی صورتحال کے تناظر میں آنے والے انتخابات کے حوالے سے بھی بات چیت کی۔ دونوں رہنمائوں کی ملاقات کے بعد کراچی کے سیاسی حلقوں میں نئی ہلچل مچ گئی ہے اور ان کی ملاقات کو کسی نئے سیاسی اتحاد کا پیش خیمہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔

عمران خان نے اپنی قائدانہ صلاحیت ،قابلیت،انتھک محنت اور جذبے کی شدت کی وجہ سے کھیل کی طرح سیاست میں بھی شاندار کامیابی حاصل کی اور تحریک انصاف کو پاکستان کی تیسری سیاسی قوت بنانے میں کامیاب ہوگئے یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باجود تاحال وزیراعظم کا عہدہ حاصل کرنے میں ناکام نظرآتے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی عوام کے دلوں میں ان کی قدرومنزلت موجودہ دورحکومت کے وزیراعظم سے کہیں زیادہ ہے اور عوام کی ایک بہت بڑی تعداد عمران خان کو پاکستان کا وزیراعظم دیکھنا چاہتی ہے۔ مصطفی کمال بھی عمران خان کی طرح ایک قابل ،باصلاحیت ،فعال ،بہادر ،سچے اور محب وطن سیاسی رہنما ہیں جنہوں نے 3 مارچ 2016 کو کراچی واپس آکر جس طرح نہایت دلیری کے ساتھ کراچی کی سیاست پر قابض’’الطاف حسین ‘‘ نامی فرعون کو للکارتے ہوئے اس کی منافقانہ اور ملک دشمن سرگرمیوں کا پردہ چاک کیا وہ ان سے قبل کوئی بھی اردو بولنے والا دوسرا سیاست دان نہ کرسکا ۔مصطفی کمال کی الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے خلاف کی گئی باتوں کو کراچی بلکہ پورے پاکستان کے عوام نے نہایت غور سے سنا کہ یہ باتیں کوئی اور نہیں ماضی میں ایم کیو ایم سے وابستہ رہنے والا ایک نیک نام سیاسی لیڈرمصطفی کمال کر رہا تھا جس نے پرویز مشرف کے دور حکومت میں ایم کیو ایم کی جانب سے سٹی ناظم بنائے جانے کے بعد جس قابلیت،صلاحیت ،محنت ،خلوص ،جذبے اور لسانی و سیاسی تعصب سے بالا تر ہوکر انتھک محنت کرکے کراچی کی تعمیر وترقی میں جو زبردست کردار ادا کیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.