بریکنگ نیوز : اب بنے گا نیا پاکستان ، چیف جسٹس آف پاکستان نے دبنگ اعلان کردیا

بریکنگ نیوز : اب بنے گا نیا پاکستان ، چیف جسٹس آف پاکستان نے دبنگ اعلان کردیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے تاریخی فیصلہ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہفتے کے روز بھی عدالت لگے گی۔ ہفتے کے روز عدالت لگانے کا فیصلہ چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے کیا گیا ۔ چیف جسٹس ہفتے کو چھٹی کے باوجود سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کیسز کی سماعت کریں گے۔ چیف جسٹس 23دسمبر کو دوپہر دو بجے کیسز کی سماعت کریں گے۔

ہفتے کے روز سپریم کورٹ میں ساحلی علاقوں پر ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس کی سماعت ہو گی۔سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کرے گا۔ بنچ میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل ہیں۔ جبکہ دوسری جانب چیف جسٹس ثاقب نثارصاف سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں صاف پانی کیس کی سماعت کے بعد اچانک میوہسپتال پہنچ گئے جہاں انہوں نے ہسپتال کی مختلف وارڈز کا دورہ کیا اورسرجری ڈیپارٹمنٹ میں مردانہ و زنانہ وارڈاکٹھے ہونے پر اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر الگ کرنے اور ہسپتال میں واٹر فلٹر لگانے کا حکم دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں صاف پانی کے حوالے سے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے چیف سیکرٹری زاہد سعید کو اپنی مصروفیات ترک کرتے ہوئے کا حکم دیتے ہوئے میوہسپتال کا اچانک دورہ کیا اور ہسپتال کی ایمرجنسی کے مختلف حصوں کا جائزہ لیا،اس موقع پر ایم ایس میوہسپتال نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں مریضوں کوتمام سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ چیف جسٹس نے سرجری ڈیپارٹمنٹ کے دورہ کے موقع پر ہیڈ آف سرجری سے سوال کیا کہ مردانہ اور زنانہ وارڈ کیوں اکٹھے کر رکھے ہیں اس پر چیف سیکرٹری زاہدسعید نے جواب دیا کہ بعض وارڈز میں مریضوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو ایک وارڈ میں رکھا گیا ہے، چیف جسٹس ثاقب نثار نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر وارڈالگ کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہسپتال میں مریضوں کوتمام سہولتیں فراہم کی جائیں،بتایا جائے کہ ہسپتال میں صاف پانی کیسے مہیاکیاجاتا ہے؟، چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا کہ مریضوں کوپینے کاصاف پانی ملناچاہئے اورہسپتال میں واٹرفلٹرلگائے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.