قانون یا گھر کی لونڈی : مریم نواز نے کمرہ عدالت میں قانون کی دھجیاں اڑا دیں ، آج کیا حرکتیں کرتی رہیں ؟خبر آ گئی

قانون یا گھر کی لونڈی : مریم نواز نے کمرہ عدالت میں قانون کی دھجیاں اڑا دیں ، آج کیا حرکتیں کرتی رہیں ؟خبر آ گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سابق وزیر اعظم نواز شریف آج احتساب عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ اس موقع ہپر ان کے ہمراہ مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر بھی تھے۔ کمرہ عدالت میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی کے باوجود مریم نواز بے دریغ موبائل فون کا استعمال کرتی رہیں۔ پابندی کے باوجود مریم نواز پہلے تو چھُپا کر

موبائل فون کمرہ عدالت میں لے کر گئیں، یہی نہیں دوران سماعت موبائل فون پر پیغامات کا تبادلہ بھی کرتی رہیں اور ٹویٹ بھی کیا، جبکہ پرویز رشید نواز شریف کو مختلف ٹی وی چینلز پر ن لیگ کی حمایت میں چلنے والے پروگرامز سے بھی آگاہ کرتے رہے۔یاد رہے کہ ریفرنسز کیس کی سماعت کے لیے آج نواز شریف 10 ویں جبکہ مریم نواز 12 ویں مرتبہ احتساب عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔خیال رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف نیب ریفرنسز پر سماعت جاری ہے۔اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف نیب کی جانب سے دائر تین ریفرنسز کی سماعت کر رہے ہیں۔العزیزیہ ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ یاسر شبیر کا بیان ریکارڈ کرانے کے بعد نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے ان پر جرح مکمل کی۔نیب کے گواہ اور وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر آفاق احمد نے قطری شہزادے شیخ حمد بن جاسم کے جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کو لکھے گئے خط کی تفصیلات عدالت میں پیش کیں جس پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اعتراضات اٹھائے۔

گواہ نے بتایا کہ ’28 مئی 2017 کو سیکرٹری قطری شہزادہ دوحا میں پاکستانی سفارتخانے آئے اور 31 مئی کو جے آئی ٹی نے سیکرٹری خارجہ کو خط لکھا اور مجھے طلب کیا جس کے بعد یکم جون کو میں نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوکر بیان ریکارڈ کرایا’۔گواہ نے بتایا کہ قطری شہزادے کا سربمہر خط واجد ضیا کو لکھا گیا جسے کسی نے نہیں کھولا۔نیب کے دوسرے گواہ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب شکیل انجم ناگرہ نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ 10 اگست کو رجسٹرار سپریم کورٹ کو جے آئی ٹی کی تصدیق شدہ رپورٹ کے لئے درخواست کی، 15 اگست کو رجسٹرار سپریم کورٹ کو دوسری درخواست دی، نیب کی درخواست پر17 اگست کو رجسٹرار آفس نے جے آئی ٹی رپورٹ فراہم کی۔گواہ نے مزید بتایا کہ والیم ایک سے والیم 9 تک تین سیٹ فراہم کیے گئے، والیم 10 کی چار تصدیق شدہ نقول بھی نیب کو فراہم کی گئیں، جو ریکارڈ رجسٹرار آفس سے ملا اسی روز نیب لاہور کے حوالے کیا اور 25 اگست2017 کو نیب کے تفتیشی افسر کے سامنے بیان ریکارڈ کرایا۔خیال رہے کہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی اب تک 16،16 جب کہ العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی 20 سماعتیں ہوچکی ہیں۔

سابق وزیراعظم نواز شریف آج 10ویں مرتبہ احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے جب کہ مریم نواز 12ویں اور ان کے خاوند کیپٹن (ر) صفدر 14ویں بار احتساب عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔نواز شریف لاہور سے اسلام آباد پہنچے تو بے نظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر میئر اسلام آباد شیخ انصر عزیز، مسلم لیگ (ن) کے رہنما آصف کرمانی اور پرویز رشید نے ان کا استقبال کیا۔تینوں ریفرنسز میں اب تک استغاثہ کے 27 میں سے 8 گواہ اپنے بیان قلمبند کرا چکے ہیں جن میں سدرہ منصور، جہانگیر احمد، محمد رشید ، مظہر بنگش، شہباز حیدر، ملک طیب، مختار احمد اور عمردراز شامل ہیں۔سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔نیب کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن اور حسین نواز ، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔دوسری جانب العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔تاہم بعدازاں احتساب عدالت نے حسن اور حسین نواز کا مقدمہ باقی ملزمان سے الگ کردیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.