ایک بار پھر عمران خان نا اہلی کیس ۔۔۔۔ حنیف عباسی نئے جوش کے ساتھ پھر میدان میں آ گئے

ایک بار پھر عمران خان نا اہلی کیس ۔۔۔۔ حنیف عباسی نئے جوش کے ساتھ پھر میدان میں آ گئے

لاہور(ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی نے عمران خان نااہلی کیس کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کا اعلان کردیا۔تفصیلات کے مطابق لاہور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی نے کہا ہے کہ عمران خان کو نااہل قرار دلانے کے لیے دوبارہ سپریم کورٹ جائیں گے

مجھے امید ہے کہ عمران خان نظر ثانی اپیل میں نااہل ہوں ہوجائیں گے۔حنیف عباسی نے عمران خان کے ساتھ تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عمران خان کی ایک اے ٹی ایم نااہل ہوگئی تاہم علیم خان عمران خان کی دوسری اے ٹی ایم ہیں جن پر سپریم کورٹ میں مقدمات چل رہے ہیں اور علیم خان اس وقت لوگوں کے اربوں روپے کے نادہندہ ہیں، عمران خان کے ساتھ انہیں بھی نااہل قرار دلانے کی کوشش کریں گے۔دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما علیم خان نے رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ منشیات فروشی کی سزا آئین پاکستان میں پھانسی ہے کیا وقت آگیا ہے کہ منشیات فروش دوسروں کو کریکٹر سر ٹیفکیٹ دے رہے ہیں، حنیف عباسی اپنا بندوبست کریں، جنگلہ بس،اورنج لائن ٹرین اور دیگر منصوبوں کا بھی حساب ہوگا حنیف عباسی بے صبرے نہ بنیں۔تحریک انصاف کے رہنما علیم خان نے مزید کہا کہ حنیف عباسی اپنے زخم چاٹ رہے ہیں، عمران خان کیس میں ان کی تسلی نہیں ہوئی، ایفی ڈرین عباسی کو دوبارہ منہ کی کھانا پڑے گی۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو اہل جب کہ جہانگیر ترین کو نااہل قرار دے دیا۔

ذرائع کے مطابق عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جہانگیر ترین کو ایماندار قرار نہیں دیا جاسکتا انہیں 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان نیازی سروسز کے شیئر ہولڈر یا ڈائریکٹر نہیں تھے، عمران خان نے فلیٹ ایمنسٹی اسکیم میں ظاہر کردیا تھا۔چیف جسٹس نے کہا کہ غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان فیصلہ کرسکتا ہے کیونکہ سیاسی جماعتوں کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال الیکشن کمیشن کا کام ہے، الیکشن کمیشن مکمل اور مساوی طور پر اکاؤنٹس کی چھان بین کرے، عمران خان کے بیان حلفی کاعدالتی جائزہ لینا ضروری ہے۔فیصلہ سنائے جانے کے وقت عمران خان سپریم کورٹ میں موجود نہیں تھے تاہم جہانگیر ترین، تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری ، درخواست گزار حنیف عباسی، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور دیگر سیاسی شخصیات بھی اس موقع پر کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے جمعہ کو پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سیکریٹری جنرل کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کو نا اہل قرار نہیں دیا جبکہ جہانگیر ترین کو نا اہل قرار دیا ہے۔مسلم لیگ نواز کے حنیف عباسی کی طرف سے دائر درخواستوں میں عمران خان اور جہانگیر ترین پر اثاثے چھپانے کا الزام عائد کیا گیا تھا اور درخواست کی گئی تھی کہ دونوں رہنماؤں کو نااہل قرار دیا جائے۔تحریکِ انصاف کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کے مقدمے کو الیکشن کمیشن کے پاس بھیج دیا گیا ہے تاکہ اس کی تحقیقات کی جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.