میں دیکھتا ہوں تم لوگ ایسا کیسے کرتے ہو۔۔۔۔ نواز شریف کے بعد اسحاق ڈار بھی عدالت کو آنکھیں دکھاتے ہوئے مقابلے پر اتر آئے

میں دیکھتا ہوں تم لوگ ایسا کیسے کرتے ہو۔۔۔۔ نواز شریف کے بعد اسحاق ڈار بھی عدالت کو آنکھیں دکھاتے ہوئے مقابلے پر اتر آئے

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے احتساب عدالت کی جانب سے زائد اثاثہ جات کیس میں اشتہاری قرار دینے کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔اسحٰق ڈار نے اپنے وکیل قاضی فیصل مفتی کے ذریعے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا کہ سماعت ابتدائی مراحل میں ہے اور احتساب عدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ

اور جائیداد ضبطگی کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔واضح رہے کہ احتساب عدالت نے 14 نومبر کو اسحٰق ڈار کے خلاف ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کرتےہوئے انہیں اشتہاری قراردیا تھا۔ساتھ ہی عدالت نے کہا تھا کہ اگر اسحٰق ڈار کے خلاف دائر ریفرنس کی سماعت میں حاضر نہیں ہوئے تو ان کے ضامن احمد علی قدوسی کی جانب سے جمع 50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے بھی ضبط کرلیے جائیں گے۔اسحٰق ڈار کے ضامن احمد علی قدوسی نے بھی اپنے خلاف احتساب عدالت کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جس کی سماعت دو رکنی بینچ نے کی۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے تفتیشی افسر نے احمد علی قدوسی کی قابل انتقال جائیداد سے متعلق تفصیلات کورٹ میں جمع کرائی۔اسحٰق ڈار نے پٹیشن میں احتساب عدالت پر الزام عائد کیا کہ ان کے خلاف کارروائی کا عمل ضابطوں کو مد نظر رکھتے ہوئے نہیں کیا جارہا۔انہوں نے بتایا کہ احتساب عدالت نے اشتہاری قرار دینے کے 30 دن قبل ہی جائیداد ضبطگی کا عمل شروع کردیا۔اسحٰق ڈار نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب سے پٹیشن سے متعلق جواب طلب کیا تھا لیکن نیب تاحال کوئی دستاویزات جمع کرانے میں ناکام رہا ہے۔

انہوں نے اپنی دائر پٹیشن میں موقف اختیار کیا کہ طعبیت خراب ہونے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے انہیں لمبے سفر کی اجازت نہیں دی اس لیے وہ پاکستان واپسی کا سفر کرنے سے قاصر ہیں۔واضح رہے کہ احتساب عدالت نے نیب کو اسحٰق ڈار کی طبی رپورٹ کی تصدیق کا حکم دیا تھا تاہم نیب تاحال حتمی رپورٹ جمع نہیں کراسکی۔اسحٰق ڈار نے پٹیشن میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے درخواست کی کہ کسی بھی سخت کارروائی سے پہلے طبی رپورٹ سے متعلق تصدیق کرلی جائے۔پٹیشن میں کہا گیا کہ ‘احتساب عدالت کی جانب سے اشتہاری قرار دینے کے فیصلے کو کالعدم کردیا جائے’ ۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسحٰق ڈار کیس میں ضامن احمد علی قدوسی کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے 31 دسمبر کو طلب کرلیا۔خیال رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دے دیا، فیصلہ ان کی عدالت سے مسلسل غیر حاضری پر سنایا گیا، اسحاق ڈار کے خلاف آمدن کے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس احتساب عدالت میں زیر سماعت ہے۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے نیب ریفرنس کی سماعت کی ۔ اس موقع پر وکیل صفائی کی جانب سے اشتہاری قرار دینے کی درخواست کی مخالفت کی گئی اور

اسحاق ڈار کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔اسحاق ڈار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کی ایم آر آئی کا انتظار تھا، سینے میں اب بھی تکلیف ہےاور میڈیکل رپورٹ کے مطابق دل کی شریان میں بھی معمولی سا مسئلہ ہے۔وکیل نے کہا کہ اسحاق ڈار کے مزید ٹیسٹ ہوں گے، نیب نے اب تک میڈیکل رپورٹ کی تصدیق نہیں کرائی جب کہ وارنٹ کی تعمیل لاہور کے ایڈریس پر کی گئی جبکہ وہ تو وہاں رہتے ہیں نہیں۔اس موقع پر اسپیشل پراسیکیوٹر نیب عمران شفیق نے کہا کہ ملزم کو تمام عدالتی کارروائی کا علم ہے اس لئے وارنٹ لندن بھجوانے کی ضرورت نہیں ہے۔عدالت نے اسحاق ڈار کی جانب سے استثنا کی متفرق درخواست بھی مسترد کردی۔خیال رہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے کہا ہے کہ اسحاق ڈار کے استعفے کی خبریں حکومت کی نئی چال اور ڈرامہ بازی ہے۔ شریف برادران نے سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت اسحاق ڈار کو ملک سے فرار کروایا ہے ، اسحاق ڈار کرپشن کیسز کا اہم گواہ اور ملزم ہے ، نااہل نواز شریف بھی بھاگ جائیں گے، نام ای سی ایل میں ڈالا جائے، ان ڈاکووں چوروں اور لٹیروں سے لوٹ مار کا مال برآمد نہ ہوا تو یہ غریب عوام سے بڑی زیادتی ہوگی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.