امریکہ کا ساتھ دینے پر پاکستان کوسب سے بڑا نقصان کیا ہوا؟ انکشاف ہو گیا

امریکہ کا ساتھ دینے پر پاکستان کوسب سے بڑا نقصان کیا ہوا؟ انکشاف ہو گیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی امور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی امریکا کا ساتھ دینے پر شروع ہوئی۔ اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کے دوران قومی سلامتی مشیر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دشمن کے خطرناک عزائم کو شکست دی ہے،

آج شرپسند عناصر ہتھیار ڈال رہے ہیں، کراچی میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے جب کہ بلوچستان کےحالات میں بھی بہتری آئی ہے۔ وہاں لوگ ہتھیار ڈال رہے ہیں اور آج جیوےجیوے بلوچستان کے ساتھ جیوےجیوے پاکستان کے نعرے لگ رہے ہیں۔ ناصر جنجوعہ نے کہا کہ افغانستان میں گزشتہ 40 برسوں سے امن و امان کی صورت حال انتہائی خراب ہے ، افغانستان میں استحکام اولین ترجیح ہونی چاہیے، جنوبی ایشیا کی سلامتی خطرے میں ہے، خطے میں ایٹمی جنگ بھی چھڑ سکتی ہے، بھارت ہتھیاروں کا ذخیرہ کر رہا ہے، بھارت پاکستان کو مستقل طور پر روایتی جنگ کی دھمکی دے رہا ہے، امریکا خطے میں چین کے اثر و رسوخ کو کم کرنا چاہتا ہے، وہ سی پیک کے بھی خلاف ہے اور بھارت کی زبان بول رہا ہے۔ امریکا اور بھارت کشمیر پر ایک ہی موقف رکھتے ہیں۔ بھارت کو پاکستان پر ترجیح دی گئی اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو خطرہ قرار دیا گیا۔ مشیر قومی سلامتی امور نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی امریکا اور مغرب کا ساتھ دینے پر شروع ہوئی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا لیکن دنیا نے پاکستان کی جنگ کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا، افغانستان میں طالبان مزید مضبوط ہورہے ہیں، امریکا افغانستان میں اپنی شکست کا الزام پاکستان پر لگا رہا ہے، وہ پاکستان پر حقانی گروپ اور طالبان کا ساتھ دینے کا الزام لگاتا ہے۔

امریکہ کے محکمہ دفاع نے جنگ کے میدان میں افغان فورسز کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے طالبان باغیوں پر زور دیا کی وہ “امن اور سیاسی قبولیت” کے لئے کابل حکومت کے ساتھ سیاسی بات چیت کی راہ اختیار کریں۔یہ بیان پینٹاگان کی کانگرس کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں سامنے آیا ہے جو 21 اگست کو صدر ٹرمپ کی افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی کے اعلان کے بعد پہلی رپورٹ ہے۔کانگریس کو دی گئی رپورٹ میں پینٹاگان نے کہا کہ امریکی اور افغان “ذرائع نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ لڑائی کے گزشتہ موسم کے مقابلے میں یہ موسم بہت کامیاب رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ (یکم جون سے 30 نومبر کے عرصے) کے دوران طالبان کسی صوبائی مرکز کے لئے خطرہ نہیں بن سکے اور (انہوں نے) اہم اضلاع کا کنٹرول کھو دیا ہے اور اے این ڈی ایس ایف (افغان نینشل ڈیفنس سکیورٹی فورسز) کا آبادی کے تمام بڑے مراکز پر کنٹرول برقرار رہا۔ امریکی فوج کے کمانڈروں نے موسم گرما کے آغاز میں کہا تھا کہ لڑائی میں “تعطل” کی کیفیت ہے جب کہ افغان فورسز طالبان اور دیگر شدت پسند گروپوں کو ملک میں بعض علاقوں میں پیچھے رکھنے کے لئے کوشاں ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ “یہ حکمت عملی امریکہ کی گزشتہ انتظامیہ کی اس سوچ سے مختلف ہونے کے عزم کی غمازی کرتی ہے جس میں توجہ افغانستان سے امریکی فورسز کے انخلا کے اوقات کار پر مرکوز تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.