راحیل شریف کی سربراہی میں قائم اسلامی فوجی اتحاد کا پہلا مشن کب اور کہاں روانہ ہو گا ؟ جانیے

راحیل شریف کی سربراہی میں قائم اسلامی فوجی اتحاد کا پہلا مشن کب اور کہاں روانہ ہو گا ؟ جانیے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سعودی عرب کی زیر سرکردگی ، انسداد دہشت گردی کیلئے قائم فوجی اتحاد کے تحت اسلامی امن فوج تشکیل دینے کی تجویز زیر غور ہے جسے غیر ریاستی عناصر اور دہشت گرد گروپوں کے ہاتھوں شورش کے شکار رکن ملکوں میں تعینات کیا جائے گا۔ ابتدائی طور پر اس فوج کی تعیناتی کیلئے بدامنی کا نشانہ بننے والے دو مسلمان افریقی ملکوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جب کہ مستقل میں مجوزہ امن فوج کو خانہ جنگی کا شکار دیگر ملکوں میں بھی بھیجا جاسکتا ہے۔

26 نومبر کو سعودی دارلحکومت ریاض میں مذکورہ اتحاد میں شامل ملکوں کے وزرائے دفاع کے اجلاس کی تاخیر سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق، رکن ممالک اس تجویز پر جوابی تجاویز سے اتحاد کے ہیڈکوارٹرز کو مطلع کریں گے۔ واضح رہے پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف اس فوجی اتحاد کے سربراہ ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق اسلامی ملکوں میں دہشت گردوں کی کارروائیوں اور ان کا سدباب ، ایجنڈے کا مرکزی موضوع رہا اور اسی حوالہ سے ان ہی دنوں، مصر کے صوبے شمالی سیناء میں العریش نامی مقام کے نزدیک ایک مسجد پر دہشت گردوں کے حملے کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے مجوزہ امن فوج کی ہیئت ، اور تنظیمی ساخت کیلئے ،خاصی حد اقوام متحدہ کی امن فوج کے خدوخال مستعار لئے جاسکتے ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ان امن دستوں کی تشکیل، تربیت ، کمانڈ، آپریشنوں پر اٹھنے والی لاگت سمیت دیگر اخراجات کون برداشت کریگا اور رکن ملکوں پر کتنا بوجھ ڈالا جائے گا۔ خیال رہے پاکستان اور بنگلہ دیش دو ایسے اسلامی ملک ہیں جن کا اقوام متحدہ کے امن دستوں میں عددی اعتبار سے ، سب سے زیادہ حصہ ہے اور بطور خاص پاکستان کو امن دستوں کی سربراہی کا وسیع تجربہ ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہدشہزادہ محمد بن سلمان، جو ملک کے وزیر دفاع بھی ہیں۔ انہوں نے اس اجلاس سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے اتحاد کے اکتالیس رکن ممالک کے درمیان روابط کو فروغ دینے اسلام کے سخت گیر تشخص کی اشاعت کے سدباب کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کل منگل کے روز پورے سینٹ پر مشتمل ایوان بالا کی کمیٹی کو دفاع و سلامتی کے بارے میں بریفنگ دیں گے۔ باور کیا جاتا ہے ان سے سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد میں پاکستان کے کردار اور اتحاد کی شرائط کار کے بارے میں سوالات پوچھے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.