معاملہ ختم نبوتؐ کانہیں بلکہ ختم حکومت کا چل رہا، عمران خان سر سے پائوں تک گالی ، سعد رفیق جاتی امرا کے گیٹ پر کھڑے ہو کر کیا کچھ کہہ گئے

معاملہ ختم نبوتؐ کانہیں بلکہ ختم حکومت کا چل رہا، عمران خان سر سے پائوں تک گالی ، سعد رفیق جاتی امرا کے گیٹ پر کھڑے ہو کر کیا کچھ کہہ گئے

لاہور: وفاقی وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ استعفے ختم نبوت ؐ کا معاملہ نہیں بلکہ ختم حکومت پلان کا حصہ ہے مگر اس طرح حکومت ختم نہیں ہو گی ،اسپیکر قومی اسمبلی کے اظہار تشویش کا ہر سطح پر نوٹس لیا جا نا چاہیے اور اگر ایسی کوئی چیز چل رہی ہے تو اس کا تدارک بھی ہونا چاہیے ،لوگوں کو چور بنانے کا بیانیہ عمران خان کا ہے ،پاکستان میں احتساب کاگھنائونا کھیل بنیادی طور پر مینج کرنے کا طریقہ رہا ہے اور بد قسمتی سے ہم بھی اس معاملے میں ڈلیور

نہیں کر سکے ،ہمیں اصل میں خطرہ ایکدوسرے سے ہے ، تمام اسٹیک ہولڈرز ایکدوسرے کیلئے خطرہ نہ بننے کی روایت ڈالیں تو پھر کام چلتا رہے گا نہیں تو پھر خطرہ ہی خطرہ ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جاتی امراء رائے ونڈ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ووٹر تمام سیاسی جماعتوںکا کردار دیکھ رہے ہیں۔ آج تمام جماعتیں کسی نہ کسی طرح حکومتوں کا حصہ ہیں اور انتخابات میں عوام ضرور پوچھیں گے کہ کس نے کیا ڈلیور کیا ۔ اٹھارویں آئینی ترامیم کے بعد صوبائی حکومتیں طاقتور ہیں اور ان کے پاس بے پناہ وسائل ہیں لیکن ایک دوسرے کو الجھا دیا گیا ۔ عمران خان کا رویہ سیاسی مخالف کانہیں سوتن فتنہ پرور فساد فی العرض شخص کاہو سکتا ہے ۔چور بنانا عمران خان کا بیانیہ ہے جبکہ ہم تو کارکردگی کی بات کرتے ہیں۔ہم نے مسلسل سازشوں ،دبائو اور گالیاں سننے کے باوجود ساڑھے چار سال نواز شریف کی قیادت میں ڈلیور کیا ہے او ریہ سلسلہ اب تک جاری ہے ۔ انتخابات کے دن قریب آ رہے ہیں ہمارے ہمارے مخالفین کی گالیاں دینے کی فریکونسی مزید بڑھ جائے گی لیکن انتخابات والے دن پتہ چلے گا کہ گالی جیتی ہے یا کام جیتا ہے ، عمران خان سر سے پائوں تک گالی ہیں اور اگر عمران خان جیت گئے تو ہم سمجھیں گےگالی جیتی ہے ۔انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے جمہوری نظام کو لا حق خطرات کے حوالے سے بیان پر کہاکہ اسپیکر قومی اسمبلی شریف آدمی ہیں وہ مسلم لیگ (ن) کے نہیں بلکہ ہائوس کے کسٹوڈین ہیں۔ اگر انہوں نے کسی چیز کو محسوس کیا ہے تو اس کی بات میں بہت وزن ہے یقینا اس کا ہر سطح پرنوٹس لینا جانا چاہیے اور اگر ایسی کوئی چیز چل رہی ہے تو اس کا تدارک بھی ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت ، عدلیہ ، مسلح افواج ، سول بیورو کریسی او رمیڈیا جس کا بڑا ہم کردار ہے سب کو اپنے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے او راس کے ساتھ چھوٹی موٹی چیزیں اور میوزک چلتا رہتا ہے ۔ ایاز صادق نے ہم سے بھی شیئر کیا ہے اور ہم بھی ان سے شیئر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ اصل میں ہمیں خطرہ

ایک دوسرے سے ہے ،تمام اسٹیک ہولڈرز ایک دوسرے کے لئے خطرہ نہ بننے کی روایت ڈالیں او راختلاف رائے کو دشمنی میں تبدیل کر کے زندگی اور موت کا مسئلہ نہ بنائیں تو پھر کام چلتا رہے گا نہیں تو پھر خطرہ ہی خطرہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عدلیہ سے کبھی اختلاف نہیں کیا ، ہمارا ختلاف کسی معزز جج یا بنچ سے ہو سکتا ہے اور وہ بھی اس صورت میں کہ ایسا فیصلہ آئے جو قانون اور انصاف کے منافی ہو ۔عدلیہ بہت سے فیصلے کرتی ہے اب حدیبیہ کا فیصلہ آیا ہے لیکن ہماری دانست میں یا جس کی تشریح آئین و قانون کے مطابق نہ ہو اس پر بات کرنے کو عدلیہ پر چڑھائی قرار دینا درست نہیں ہے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے درست کہا ہے کہ عدلیہ کو گالیاں نہیں دینی چاہئیں لیکن عدلیہ کی بے توقیری کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے ۔ ججز صاحبان کو کوئی بھی ریمارکس پاس کرتے ہوئےدیکھ لینا چاہیے کہ کیا ان کا مرتبہ اس کی اجازت دیتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے کیس میں کہانی سے کہاں شروع ہو ئی اور پانامہ کہیں اور ہی رہ گیا ۔ایک منتخب وزیر اعظم تھے انہیں صرف اس وجہ سے نکال دیا گیا تو انہوں نے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہیں لی ۔ عمران خان نے خود کہاکہ میری آف شور کمپنی ہے لیکن عدلیہ نے کہا کہ کوئی بات نہیں اور انہیں جانے دے رہے ہیں۔میں تو عدالتوں سے نا اہلیوں کے خلاف ہوں چاہے وہ یوسف رضا گیلانی ، نواز شریف یا جہانگیر ترین کی نا اہلی ہو ۔ جہانگیر ترین کے معاملے میں جے آئی ٹی بنائی گئی ، کسی ریفرنس کا حکم دیا گیا اور نہ ہی کوئی مانیٹرنگ جج مقرر کیا گیا ۔ فارن فنڈنگ کیس میں کہا گیا کہ پانچ سال سے پیچھے جا کر تحقیقات نہیں کی جائیں گی ۔ جب تحریک انصاف کو یونہی کلین چٹ ملتی رہے گی تو لوگسوالات کرتے رہیں گے اور نواز شریف نے لندن میں پاکستان میں دو قانون چلنے کی بات اس تناظر میں کی ہے۔ انہوں نے اپنے احتساب کے سوال کے جواب میں کہا کہ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ عمران خان او رشیخ رشید کوکون بتاتا ہے کہ اب کس کی باری ہے اور کس کو احتساب کے شکنجے میں رگڑا جائے گا وہ کہاں سے پیشگوئی کرتے ہیںاور انہیں اس کا جواب دینا پڑے گا۔ میں ارب پتی نہیں ہو ںلیکن جتنا کمایاہے محنت سے کمایا ہے او را س پر ٹیکس دیتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ ٹی وی چینلز کو کہاں سے فیڈ کیا جاتا ہے، ایسے تجربے پہلے بھی کئے جا چکے ہیں لیکن ان کی مرضی ہے میں انہیں روک تو نہیں سکتا ۔ انہوںنے کہا کہ عمران خان بہت پرہیز گاراور متقی بنتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ عدلیہ کے فیصلے کے بعد وہ

مسٹر کلین بن گئے ہیں ۔ لیکن وہ بتائیں ان کا ذریعہ آمدنی کیا ہے ،وہ سوا تین سو کنال کے گھر میں رہتے ہیں اس کے یوٹیلٹی بلز او ردیگر اخراجات کہاں سے پورے ہوتے ہیں۔ لندن میں کیا سونے کا فلیٹ تھا کہ کہ چند مرلے کا فلیٹ بیچ کر یہاں سوا تین سو کنال اراضی پر گھر لے لیا ۔لوگوں کے چہروں پر گند ڈالنے کی عادت عمران خان کی ہے جو اچھی نہیں ہے ۔ عمران خان کو جو عادات ہیں اگر ان کا ذکر شروع ہو جائے تو گواہان خود آ جاتے ہیں ۔وہ لوگوں کی پگڑیاں اچھالتے ہیں اورقدرت کا بھی نظام ہے ان پر تکلیف بھی آتی ہے لیکن وہ پھر بھی باز نہیں آتے۔ انہوںنے اراکین اسمبلی کے استعفوں کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو دائیں بائیں دیکھتے رہتے ہیں اور یہ سیاست کی بد قسمت روایت رہی ہے ۔کچھ لوگ آزمائش میں کھڑے اورکچھ طوفانوں کا سامنانہیں کرتے کچھ مرغے باد نما ہوتے ہیں ۔جس طرح سائبیریا سے پرندے آتے ہیں ا ور ایک خاص موسم میں واپس چلتے جاتے ہیں ہمارے پاس بھی ایسے پرندے ہو ں گے ، جیسے یہ ہمار ے پاس آئے تھے وہ جابھی سکتے ہیں لیکن یہ ہماری جمہوریت کا ماڈل ہے کہ آپ کو انتخابات میں الیکٹیبل لینا پڑتے ہیں اور کوئی بھی جماعت اس سے باہر نہیں نکل سکی ۔کچھ جا سکتے ہیں لیکن سارے نہیں جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.