سی پیک منصوبوں سے دستبرداری چین نے سب کو ہکا بکا کر دیا

سی پیک منصوبوں سے دستبرداری چین نے سب کو ہکا بکا کر دیا

اسلام آباد: اس امر کا اعادہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کو سی پیک سے متعلقہ منصوبوں پر عملدرآمد کیلئے چینی حکومت کی طرف سے دیئے جانیوالے رعایتی قرضوں پر صرف ایک یا دو فیصد سود ادا کرنا ہے۔ اسلام آباد میں چین کے سفارتخانے کے ترجمان نے شرح سود سے متعلق میڈیا اطلاعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چینی کمپنی کی طرف سے کی جانیوالی سرمایہ کاری کی صورتمیں چینی حکومت کے قرضے کے مقابلے میں سود کی شرح پانچ فیصد یا اس سے کم ہے اور یہ سود بھی چینی بینکوں کو خود کمپنیوں

کی طرف سے ادا کرنا ہے ۔ترجمان نے کہا کہ رعایتی قرضے زیادہ تر بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر خرچ کئے جاتے ہیں ، یہ قرضے توانائی سے متعلق منصوبوں کیلئے بھی استعمال کئے جاتے ہیں ۔ترجمان نے کہا کہ قرضوں اور سرمایہ کاری کے ذریعے چین پاکستانی معیشت کی حمایت کررہا ہے اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دے رہا ہے ۔ سی پیک ایک فلیگ شپ سماجی اقتصادی ترقیاتی منصوبہ ہے جس کا مقصد باہمی صلاح مشورے کے ذریعے وسیع پیمانے پر ملک کے تمام حصوں کی تمام مشمولہ ملک کے تمام حصوں کی خدمت کرنا ہے، سی پیک سے متعلق تین منصوبوں کے فنڈز کی روکنے کے بارے میں میڈیا اطلاعات پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ اس قسم کی اطلاعات درست نہیں ہیں ، فنڈز روکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، درحقیقت تین متذکرہ منصوبوں کے معاملے میں مالیاتی طریقہ کار یا رقوم کی فراہمی کے طریقہ کا جائزہ لیا جارہا ہے، ایسا دونوں حکومتوں کے باہمی صلاح مشورے کے ذریعے کیا جارہا ہے، نظرثانی کا مطلب کسی مخصوص منصوبے کے لئے فنڈنگ روکنا یا تبدیلی ہرگز نہیں ہے ، مالیاتی انتظامات پر نظرثانی طرفین کے معاملات کی مجموعی بہتری کیلئے کی جاتی ہے۔ترجمان نےکہا کہ بسا اوقات فنی بنیادوں پر کسی مخصوص معاملے میں مالیاتی ردوبدل کی ضرورت پیش آتی ہے اور ایسا کرتے ہوئے مخصوص علاقے یا عوام کے مفاد کو مد نظر رکھا جاتا ہے ، مفاہمت کے مطابق دونوں حکومتیں ضرورت پڑنے پر فنڈنگ کے طریقہ کا فیصلہ یا نظر ثانی کرتی ہیں، کسی منصوبے کے معاملے میں کسی مالیاتی مینجمنٹ پر نظرثانی کو منفی طریقہ پر نہیں لیا جانا چاہئے،ہر منصوبہ دونوں حکومتوں کیلئے اہم ہے اور مالیاتی انتظامات اس کے مطابق کئے جاتے ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ سی پیک کے بارے میں غلط فہمی یا غلط سوچ پیدا کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے کیونکہ یہ بیلٹ و رو ڈ منصوبے کا اہم پائلٹ حصہ ہے اور دونوں حکومتوں کی قیادت اس کو انتہائی اہمیت دیتی ہے، سی پیک کی اہمیت دونوں ممالک کے عوام کیلئے بورڈ سے بالا تر ہے ،منصوبوں سے جلد استفادے پر عملدرآمد کا پہلا مرحلہ جلد ہی مکمل کر لیا جائے گا ، اس کے فوائد جلد ہی ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے اور ملک کی توانائی کی قلت پر قابو پا لیا جائے گا ، دونوں حکومتوں نے 2030ء تک طویل المیعاد سی پیک منصوبے کو بھی حتمی شکل دیدی ہے ، توقع ہے کہ اس کا اعلان پیر کو کیا جائے گا ۔دریں اثنا پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے بھیان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ بیجنگ نے پاکستان میں چین ۔پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں میں سے بعض کی ادائیگی روک دی ہے۔ایک حالیہ پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ چین سے ایسی کوئی خبرنہیں ہے کہ چین کی حکومت نے کسی منصوبے کی فنڈنگ روکدی ہے ۔ترجمان نے مزید کہا کہ ادائیگیوں پر عمل مخصوص طریقے سے کیا جاتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.