نواز شریف سے اختلاف کیوں ہے ؟ چوہدری نثار ایک بار پھر (ن) لیگ پر بر س پڑے

نواز شریف سے اختلاف کیوں ہے ؟ چوہدری نثار ایک بار پھر (ن) لیگ پر بر س پڑے

راولپنڈی (ویب ڈیسک) چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ عدلیہ سے محاذ آرائی نواز شریف سے اختلافات کی وجہ بنی۔ میں نے سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کو عدلیہ سے محاذ آرائی سے روکا تھا۔ آج بھی پارٹی کے ساتھ اختلافات کی وجہ عدالتی معاملات ہیں۔ان کا راولپنڈی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مختلف سیاسی جماعتوں میں شمولیت کی پیشکش ہے۔

آج بھی پارٹی کے ساتھ اختلافات کی وجہ عدالتی معاملات ہیں۔ان کا راولپنڈی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مختلف سیاسی جماعتوں میں شمولیت کی پیشکش ہے۔ پرویز مشرف نے بھی مجھے خریدنے کی کوشش کی۔ مشرف نے مجھے الیکشن میں شکست دینے کیلئے 5 ان پڑھ وزیروں کو استعمال کیا۔سابق وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ میری زندگی عوامی خدمت میں گزری۔ آپ میری سات پشتوں سے گواہ ہیں کہ میں کیسا ہوں۔ عوام ووٹ کی طاقت کا صحیح استعمال کریں اور اپنے ووٹ کی طاقت کو پہچانیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک سے آئندہ سالوں میں نوجوانوں کو نوکریاں ملیں گی۔ سی پیک آنے والے چند سالوں میں مکمل ہوجائے گا جس سے نوجوانوں کو نوکریاں ملیں گی۔جبکہ دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہےکہ حدیبیہ کیس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ عدلیہ کے وقار کی جیت ہے جب کہ اس سے اداروں کو سیکھنا چاہیے کہ وہ سیاسی معاملات سے دور ہوجائیں۔ حدیبیہ پیپرز ملز کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر رد عمل کے اظہار میں جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ یہ سیاسی نوعیت کے کیس ہیں جس پر مشرف کے دور آمریت میں بھی کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی لہٰذا عدالتوں کو اس طرح سیاسی طور پر بنائے گئے کیسز کو نہیں لینا چاہیے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ یہ فیصلہ عدالت کے وقار کی جیت ہے، اسی طرح پاکستان آگے بڑھ سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں اور اداروں کو سیاسی معاملات سے دور رہنا چاہیے، اس سے ان کا وقار بحال رہتا ہے، اگر ہم سے کوئی غلطی ہوگی تو ہم اس کا اعتراف کریں گے لیکن اداروں کو غلطی نہیں کرنی چاہیے اس سے ملک کو نقصان ہوگا۔ وزیر مملکت نے مزید کہا کہ پچھلے دھرنے سے لے کر بہت ساری چیزیں دیکھیں، اداروں کو سیکھنا چاہیے، اسی چیز میں ملک کی بہتری ہےکہ ادارے سیاسی معاملات سے دور ہوجائیں۔ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین 3 رکنی بنچ نے حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس کھولنے سے متعلق نیب کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اپیل مسترد کی۔ جسٹس مشیر عالم نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب کی زائد المدت اپیلیں مسترد کی جاتی ہیں اور تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔بینچ میں شامل تینوں ججز نے حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس کھولنے سے متعلق نیب کی اپیل مسترد کرنے کا متفقہ طور پر فیصلہ دیا۔اس سے قبل سماعت کے دوران اسپیشل پراسیکیوٹر نیب عمران الحق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں خلا ہے اس لئے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے ریفرنس کھولنے کی اجازت دی جائے۔جس پر جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ اسحاق ڈار کو تو آپ نے فریق ہی نہیں بنایا، اگر اسحاق ڈار کے بیان کو نکال دیا جائے تو ان کی حیثیت ملزم کی ہوگی۔اس موقع پر نیب کے وکیل نے کہا کہ ملزم کے نہ ہونے کے باعث چارج فریم نہیں کیا جاسکا جب کہ اسحاق ڈار نے معافی نامہ دیا تھا جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ جس بیان پر آپ کیس چلا رہے ہیں وہ دستاویز لگائی ہی نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.