وہی ہوا جس کا ڈر تھا: نااہلی کے فورا بعد جہانگیر ترین پھٹ پڑے، سیاسی میدان میں تہلکہ مچا دینے والی خبر آ گئی

وہی ہوا جس کا ڈر تھا: نااہلی کے فورا بعد جہانگیر ترین پھٹ پڑے، سیاسی میدان میں تہلکہ مچا دینے والی خبر آ گئی

لاہور(ویب ڈیسک)تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیرترین نے سپریم کورٹ فیصلے کوماننے سے انکارکردیا ہے،انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ”میں نہیں مانتا“ ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکرٹری جنرل تحریک انصاف جہانگیرترین نے سپریم کورٹ میں نااہلی کے فیصلے پرردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے ٹرسٹ ڈیڈ کی محض تشریح کی بنیاد پرمجھے نااہل قراردیا۔

لندن پراپرٹی کی مکمل منی ٹریل قبول کی گئی چھپائی نہیں گئی۔لندن پراپرٹی کو2011ء سے بچوں کا اثاثہ ظاہرکردیا تھا۔انہوں نے کہا کہ مجھ پرلگائے گئے الزامات مستردہوئے۔ مجھ پرانسائیڈ ٹریڈنگ اور زرعی آمدن چھپانے کاالزام تھا۔ قرض معافی اور اختیارات کا ناجائز استعمال بھی ثابت نہیں ہوا۔ انسائیڈ ٹریڈنگ کاالزام بھی باہر پھینک دیا ہے۔ واضح رہے سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے رہنماء جہانگیرترین کونا اہل قراردے دیا ہے،سپریم کورٹ نے جہانگیرترین کو 62ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دیاہے۔نااہلی کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے فیصلے میں الیکشن کمیشن کو بھی جہانگیرترین کی نااہلی کا نوٹیفکیش جاری کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے عمران خان اور جہانگیرترین کیخلاف نااہلی کیس کی سماعت کی۔عمران خان اور جہانگیرترین کیخلاف سپریم کورٹ میں نااہلی کی درخواست مسلم لیگ ن کے رہنماء حنیف عباسی نے دائر کی ۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 405دن کیس کی سماعت ہوئی۔آج سپریم کورٹ نے عمران خان اور جہانگیرترین کی نااہلی کیس کافیصلہ سنا دیا ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں عمران خان کو اہل قرار دےدیاہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ جہانگیرترین کو اہل قرار نہیں دیاجاسکتا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی قرار دیاکہ جہانگیرترین درست جواب نہیں دے رہے تھے لہذا جہانگیرترین صادق اور امین نہیں رہے۔جہانگیرترین ایماندار شخص نہیں ہیں۔جہانگیرترین نے اپنے بیان میں مشکوک ٹرمز استعمال کیں۔جہانگیرترین نے اعتراف جرم بھی کیا اور جرمانہ بھی دیا۔واضح ہوگیاکہ جہانگیرترین کی ہی آف شورکمپنیاں ہیں۔ہائیڈ ہاؤس کا اصل مالک جہانگیرترین ہے۔جہانگیرترین نے 50کروڑ روپے بیرون ملک منتقل کیے۔سپریم کورٹ نے کہاکہ جہانگیرترین کی زرعی اراضی کیس کا فیصلہ ابھی فی الحال نہیں سنایاجارہاہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ عمران خان آف شور کمپنی کے شیئر ہولڈر نہیں تھے، نیازی سروسز ظاہر کرنا لازم نہیں تھا۔ بنی گالہ اراضی فیملی کیلئے خریدی جبکہ رقم جمائما نے دی۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے عمران خان کی نااہلی کے معاملے میں مسلم لیگ ن کے رہنماء حنیف عباسی کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان لندن فلیٹ کے مالک تھے، مگر ایمنسٹی سکیم میں انہوں نے یہ فلیٹ ظاہر کر دیا تھا۔ جبکہ عدالت عالیہ کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات بھی مسترد کر دیے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.