20 افراد کا قتل: چیف جسٹس ثاقب نثار خود میں آگئے، دبنگ احکامات جاری کر دیے

20 افراد کا قتل: چیف جسٹس ثاقب نثار خود میں آگئے، دبنگ احکامات جاری کر دیے

اسلام آباد(ویب ڈیسک)سپریم کورٹ نے سانحہ تربت از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور بلوچستان حکومت سے انسانی اسمگلنگ پر رپورٹ طلب کرلی۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے تربت میں 20 افراد کے قتل کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے عدالت میں سانحہ تربت سے متعلق رپورٹ پیش کی اور کہا کہ اس طرح کے جرائم کی تحقیقات کے لئے وسائل کی کمی کا سامنا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ کے پاس وسائل نہیں تو آپ اعتراف کریں کہ آپ کچھ نہیں کرسکے۔چیف جسٹس نے کہا کہ کیا وسائل کی کمی کی شکایت سننے کے بعد ہمیں خاموش رہنا چاہیے، جن گھروں میں لاشیں آئیں وہاں کیا بیتی ہوگی، ان مسائل کا حل میری نظر میں آپ کے پاس ہے۔ڈی جی ایف آئی نے عدالت کو بتایا کہ 20 افراد کو قتل کیے جانے کا واقعہ پاک ایران بارڈر کے قریب پیش آیا جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایسے واقعات کیوں پیش آرہے ہیں اور ایجنسیاں کیوں لاعلم ہیں۔ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ انسانی اسمگلروں کے خلاف ایف آئی اے نے پیشگی کارروائیاں کی ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا تربت کا واقعہ انسانی اسمگلنگ کا ہے اور ایف آئی اے کا کیا کردار ہے۔ڈی جی ایف آئی نے کہا کہ کالعدم تنظیم کے کارندوں نے تربت میں 20 افراد کو لسانی بنیاد پر قتل کیا جب کہ پاکستان، ایران اور ترکی میں انسانی اسمگلنگ کا عالمی گروپ سرگرم ہے۔سماعت کے دوران چیف سیکرٹری بلوچستان نے اعلیٰ عدالت کو بتایا کہ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے تمام ایجنسیاں رابطے میں ہیں اور ان کی کوششوں کے نتیجے میں شرپسندوں کو دو اضلاع تک محدود کردیا گیا ہے۔سپریم کورٹ نے بلوچستان حکومت اور ایف آئی اے کو نئی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت فروی کے پہلے ہفتے تک کے لئے ملتوی کردی۔ خیال رہے کہ بلوچستان کے ضلع تربت سے 30 کلو میٹر دور بلیدہ کے پہاڑی علاقے سے 15 نومبر کو 15 افراد کی لاشیں ملی تھیں جس کے چند روز بعد مزید 5 افراد کی لاشیں ملیں، جنہیں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا جب کہ تمام افراد ایران کے راستے یورپ جانا چاہتے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.