سانحہ ماڈل ٹائون کے بعد چیف جسٹس نے ایک اور نوٹس لے لیا حکم کے آتے ہی پنجاب حکومت کی نیندیں اڑ گئیں

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے قائداعظم سولرپاورپلانٹ اورپاورکمپنیوں سے متعلق ازخودنوٹس لیاہے ،عدالت نے قائداعظم سولرپاورپلانٹ پرآنیوالی لاگت ،پیداواراوراخراجات کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کا حکم جاری کیا ہے ۔ خبر کی تفصیل کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مقدمات کی سماعت کے دوران قائداعظم سولر پاور پلانٹ اور پاور کمپنیوں سے

متعلق ازخود نوٹس لے لیاہے ، عدالت نے پاور پلانٹ پر آنے والی لاگت، پیداواراور اخراجات کی مکمل تفصیلات طلب کر لیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے حکم دیا ہے کہ پاورکمپنیوں کی کارکردگی اوراخراجات کی رپورٹ بھی پیش کی جائے،عدالت نے کہا ہے کہ چیف سیکرٹری اورایڈووکیٹ جنرل پنجاب 14اپریل کورپورٹ پیش کریں۔دریں اثنا چیف جسٹس نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف کی فراہمی میں تاخیر کا نوٹس لے لیا۔ چیف جسٹس نے پنجاب حکومت سے انصاف کی فراہمی میں تاخیر کی وجوہات اور تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کے لواحقین کی پکار سن لی۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کیسز کی سماعت کے بعد سانحہ ماڈل ٹاؤن میں شہید ہونے والی خاتون کی بیٹی بسمہ نے چیف جسٹس سے ملاقات کی۔ بسمہ نے چیف جسٹس سے کہا 4 سال گزر گئے لیکن ابھی تک انصاف نہیں ملا۔جسٹس ثاقب نثار نے بسمہ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا ’ بیٹے آپ نے اپنی پڑھائی مکمل کرکے اپنی والدہ کی خواہشات کو پورا کرنا ہے، میرے ہوتے ہوئے ڈرنے کی ضرورت نہیں، انصاف ملے گا‘۔چیف جسٹس نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف کی فراہمی میں تاخیر کا نوٹس لے لیا اور حکم دیا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب انصاف کی فراہمی میں تاخیر کی تفصیلات اور وجوہات پیش کریں۔قبل ازیں سپریم کورٹ نے صاف پانی کی عدم فراہمی کیس نیب کو بھجو ا تے ہوئے سی ای او صاف پانی کمپنی کو تمام تنخواہیں واپس کرنے کا حکم د یدیا،چیف جسٹس ثاقب نثار نے
ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے بتایا جائے کہ صاف پانی کمپنی میں زعیم قادری کی بیوی اور بھائی کا کیا کردار ہے؟،انہیںکس اہلیت پربورڈ آف ڈائریکٹرزمیں شامل کیا گیا،پنجاب کی تمام کمپنیوں کے سربراہوں کو بلاں گا۔ کمپنیوں کے سربراہوں سے تنخواہیں واپس لی جائیں گی،جب تک یہ عدلیہ ہے کوئی سفارش یا رشوت نہیں چلے گی، احتساب سب کا ہوگا، قوم کی ایک ایک پائی وصول کروں گا۔
اتوار کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بنچ نے صاف پانی اور 50 کمپنیوں میں بھاری تنخواہوں پر تقرر کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی، دوران سماعت چیف سیکرٹری پنجاب اور سی ای او صاف پانی کمپنی محمد عثمان عدالت میں پیش ہوئے اور صاف پانی کی فراہمی سے متعلق رپورٹ پیش کی۔
یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.