قندوز میں مدرسے پر وحشیانہ حملے میں درجنوں حافظ قرآن طلباء کی شہادت، حملہ ہم نے نہیں بلکہ کس نے کیا؟ امریکہ کا حیرت انگیز موقف سامنے آ گیا

قندوز (نیوز ڈیسک) امریکی فوج نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے حافظ قرآن طلباء پر بمباری کردی، اس بمباری سے افغانستان کے صوبے قندوز میں 150 سے زائد افراد شہید ہو گئے، ان شہداء میں بڑی تعداد حافظ قرآن کی تھی جو حفظ قرآن مکمل کرنے کے بعد تقریب دستار بندی میں شرکت کے لیے وہاں اپنے اہل خانہ کے ساتھ موجود تھے۔ دعویٰ یہ کیا جا رہا ہے کہ امریکی فوج نے بھارتی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مدرسے پر بمباری کیجبکہ دوسری طرف طالبان نے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ بمباری کے دوران مدرسے میں طالبان کا کوئی

اجلاس جاری تھا یا وہاں کوئی طالبان کمانڈر موجود تھا۔ اس کے علاوہ امریکی فوج نے بھی قندوز میں مدرسے پر ہونے والی بمباری سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکی فوج نے ایسا کوئی حملہ کیا ہی نہیں ہے۔ وائس آف امریکہ کا کہنا ہے کہ حملے میں کم از کم 59 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے بیشتر مدرسے میں زیرِ تعلیم بچے ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ نے افغان صوبے قندوز میں مدرسے پر ہونے والی بمباری میں درجنوں عام شہریوں کی ہلاکت کے الزام کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے معاون مشن کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں موجود انسانی حقوق کے ماہرین کی ٹیم حقائق جمع کرنے میں مصروف ہے۔ اے ایف پی کے مطابق عینی شاہدین نے کہا کہ شمال مشرقی صوبے قندوز میں واقع مدرسے میں تقسیم اسنادکا جلسہ جاری تھا جس کے دوران وہاں افغان ائیر فورس نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بمباری کی، تقریب میں سینکڑوں افراد شریک تھے، اپنی آفیشل ویب سائٹ پر افغان طالبان نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جارح امریکی و کٹھ پتلی فوجوں نے قندوز میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا اور بھارتی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے وحشی فوجوں نے صوبہ قندوز ضلع دشت آرچی کے پٹھان بازار کے علاقے میں واقع ہاشمیہ عمریہ نامی دینی مدرسے پر ایسے وقت شدید بمباری کر دی جب وہاں حفاظ کرام اور دینی علمائے کرام کی دستار بندی کی تقریب ہو رہی تھی۔

یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.