امریکی الزامات مسترد، روس طالبان کی حمایت میں کھل کرسامنے آگیا،روسی اور طالبان رہنما ملاقات میں امریکیوں کو مذاق اُڑاتے رہے،روسی مندوب کادھماکہ خیز اعلان

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) روس نے طالبان کو روسی ہتھیار فراہم کرنے کے امریکی الزامات کو مسترد کردیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے لیے روسی مندوب ضمیر کابولوف نے کہا کہ طالبان اور روسی حکومت دونوں ہی نے اس امریکی بیان کو سنجیدگی سے نہیں لیا ہے ،جس میں اس نے کہا ہے کہ روس انتہا پسند تحریک کے لیے ہتھیار فراہم کرتا رہا ہے۔ روسی مندوب ضمیر کابولوف کا ماسکو میں ایک بیان میں کہنا تھا کہ روس اور طالبان کے نمائندوں کے مابین گفتگو ہوئی

جس میں نمائندوں نے امریکی الزامات کا تمسخر اڑایا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ طالبان سے بات چیت کیے بغیر افغانستان میں امن کا قیام نا ممکن ہے۔دریں اثناء یورپی یونین آزادانہ نقل و حرکت کے علاقے شینگن زون میں ایسا انفرا اسٹرکچر تعمیر کرنا چاہتی ہے جو اس زون میں فوجوں کی نقل و حرکت میں بھی معاون ہو۔ اس منصوبے کو شینگن فوج بنانے سے بھی تعبیر کیا جا رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یورپ اور روس کے مابین جاری کشیدگی کے تناظر میں یورپی یونین نے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا جس کے مطابق یورپ بھر میں عسکری سامان اور فوجوں کی نقل و حرکت آسان بنایا جانا ہے۔28 ممالک پر مشتمل یورپی یونین اپنی عسکری قوت کو یکجا کر کے 2025 تک یورپی ڈیفنس یونین بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ یہ ممالک نیٹو کے رکن بھی ہیں اور اس تنظیم کی ترجیحات میں بھی عسکری سامان اور افواج کی نقل و حرکت آسان بنانا شامل ہے۔یورپی کمیشن کی اس تجویز کے مطابق شینگن زون میں موجودہ انفرا اسٹرکچر کو عسکری ضروریات کے مطابق نئے ریلوے اور روڈ نیٹ ورک کی تعمیر اور پہلے سے موجود انفرا اسٹکچر اور پلوں کو مزید بہتر بنایا جانا شامل ہے۔ ان تمام اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ شینگن زون میں شامل تمام ممالک کا انفرا اسٹرکچر بھاری عسکری تنصیبات کے نقل و حرکت کے لیے کارآمد ہو۔

اس کے علاوہ یورپی حدود کے اندر سرحدی ناکوں پر چیکنگ کا نظام بہتر بنانے کے منصوبے پر بھی عمل کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد عسکری ساز و سامان کی ایک یورپی ملک سے دوسرے یورپی ملک منتقلی کے عمل میں آسانی پیدا کرنا ہے۔ان منصوبوں کے حوالے سے یورپی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیدریکا مورگرینی کا کہنا تھا، یورپی یونین میں عسکری سامان اور افواج کی نقل حرکت آسان بنانے کے بعد کوئی بحرانی صورت پیش آنے کی صورت میں تیز رفتاری سے افواج کی تعیناتی کر کے

اس کا سدباب کیا جا سکے گا۔یورپی کمیشن کے اس منصوبے کو اب یورپی پارلیمان سے منظور کیا جانا ہے جب کہ منصوبے کے پہلے حصے پر عمل درآمد آئندہ چند ماہ کے دوران شروع کیے جانے کی توقع ہے۔گزشتہ برس نیٹو کی ایک خفیہ رپورٹ منظر عام پر آئی تھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ یورپ میں روس کی جانب سے کسی جارحیت کی صورت میں نیٹو اتحاد دفاع کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

یہ خبر جس ویب سائٹ سے لی گئی ہے اس کا لنک یہاں ہے. شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.